تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 423
423 چرواہا ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا“ ہر عورت قیامت کے دن اپنی اولاد کے اعمال کے لئے جواب دہ ہوگی کیونکہ ان کی نیک تربیت کرنا اس کا کام تھا۔موجودہ زمانہ میں جبکہ اسلام پر ایک طرف سے دہریت حملہ آور ہے اور دوسری طرف عیسائیت ، بچوں کو سچے مسلمان بنانا آپ ہی کا کام ہے۔جوصرف نام کے مسلمان نہ ہوں بلکہ ان کا عمل حقیقی مسلمانوں والا ہو اور وہ اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے ہر قربانی دے سکیں۔یہ کام آپ جبھی کر سکتی ہیں جب خود آپ کا ایمان بھی پختہ ہو اور آپ کا عمل بھی ایسا ہو جو آپ کی اولا دوں کے لئے نمونہ ہو۔اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کو توفیق دے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی سچی نام لیوا بنیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔آمین ثم آمین خاکسار مریم صدیقہ جنرل سکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ اس وقت تک لجنہ اماءاللہ کراچی کے پندرہ حلقہ جات قائم ہو چکے تھے۔انڈونیشیا کی خواتین کے ایک وفد سے لجنہ اماءاللہ کراچی کی چند بہنوں نے ملاقات کی۔لجنہ کا تعارف کروایا اور قرآن کریم کا ڈچ زبان کا ترجمہ اور دیباچہ قرآن کریم بزبان انگریزی پیش کیا۔۳۷۵ روپے کے بستر تیار کر کے مرکزی لجنہ کو مستحقین میں تقسیم کے لئے بھجوائے۔چونکہ بیرونی ممالک میں مبلغین کے اخراجات کے فنڈ میں کمی ہو گئی تھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے جماعت کو توجہ دلانے پر ایک ہنگامی فنڈ مبلغ ڈیڑھ ہزار روپے کا جمع کر کے پیش کیا گیا۔۱۹۵۶ء میں لجنہ اماءاللہ کراچی نے ایک انڈسٹریل ہوم (صنعتی ادارہ) قائم کیا۔بیگم چوہدری شاہنواز صاحب نے اس کے لئے ایک سنگر مشین ہدیہ دی۔یکم اگست ۱۹۵۶ء سے تجربہ کار استانی رکھی گئی جو مستورات اور بچیوں کو سلائی سکھاتی تھی۔غریب خواتین کو اُجرت پر کام دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ بفضلہ تعالیٰ اب تک جاری ہے۔اس ادارہ کی کامیابی کا سہرا محترمہ آپا سلیمہ بیگم صاحبہ کے سر پر ہے ا سالانہ رپورٹ ۵۷ - ۱۹۵۶ء کراچی شائع شدہ لجنہ اماءاللہ کراچی صفحہ ۱۸-۱۹