تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 413
۸۴۹۳ ۸۸۷۴ 413 ۴۰۵۵ ۴۰۶۰ 21-2• یہ جائزہ بتاتا ہے کہ آمد کے مقابلہ میں خرچ خاصا زیادہ رہا ہے اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو ہر سال خاصی رقم اس پر خرچ کرنی پڑتی ہے۔اس سکول کی طالبات نے لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع پر آٹھ سال تک اپنے ہاتھوں سے ناشتہ پکانے اور کھانا تقسیم کرنے کے فرائض ادا کئے ہیں۔جب اجتماع پر آنے والی مستورات کی تعداد زیادہ ہوگئی تو تندور لگوا کر ان پر روٹی پکوائی جانے لگی۔خدمت دین اور احمدی لڑکیاں:۔ور مارچ ۱۹۵۶ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے احمدی خواتین کو ایک اور اہم امر کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کے دلوں میں یہ بات ڈالنا شروع کر دیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔۔۔اس کام میں عورتیں بہت مدد دے سکتی ہیں۔اس وقت مسجد میں عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں اور بچپن سے ہی بچوں کے کانوں میں یہ ڈالنا شروع کردیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بڑے ہو کر انہیں دین کی خدمت کا احساس رہے گا۔کچھ عرصہ ہوا کالج کی ایک سٹوڈنٹ ہمارے گھر آئی اور اس نے مجھے ایک رقعہ دیا جس میں لکھا تھا کہ میں دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتی ہوں۔میں نے کہا بی بی لڑکیاں زندگی وقف نہیں کر سکتیں کیونکہ واقف زندگی کو تبلیغ کے لئے گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے بلکہ بعض دفعہ اسے ملک سے بھی باہر جانا پڑتا ہے اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں۔ہاں اگر تم زندگی وقف کرنا چاہتی ہو تو کسی واقف زندگی نوجوان سے شادی کرلو۔وہ خاموش ہوکر چلی گئی۔میری بیوی کی ایک ہم جماعت کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگی۔میں نے اس سے پہلے نیت کی ہوئی تھی کہ