تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 385 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 385

385 نماز جنازہ و تدفین :۔راگست کی شام کو بعد نماز عصرنماز جنازہ ادا کی گئی۔چونکہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی بغرض علاج یورپ تشریف رکھتے تھے اس لئے نماز جنازہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھائی۔بعد ازاں آپ کا تابوت مقبرہ بہشتی ربوہ کے اس خاص حصہ میں سپردخاک کیا گیا جس میں حضرت ام المومنین کا مزار ہے۔آپ کی وفات پر سلسلہ کے اخبارات و جرائد نے تعزیتی نوٹ لکھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی دو مضمون تحریر فرمائے۔مرکزی اداروں نے تعزیتی قرار داد ایں پاس کیں۔لجنہ مرکزیہ اور بیرونی لجنات نے بھی تعزیتی ریزولیوشن پاس کئے۔مصباح میں آپ کی سیرت اور حالات زندگی پر مشتمل متعدد مضامین بھی شائع ہوئے۔لجنہ اماءاللہ مرکزی و جن و بو کی قرارداد درج ذیل کی جاتی ہے۔ممبرات لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ولجنہ اماءاللہ ربوہ حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اسیح الاول کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتی ہیں۔حضرت اماں جی کا وجود سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفہ اسیح الاول کی زوجیت کے لئے آپ کو منتخب فرمایا۔عورتوں میں سے سب سے پہلے آپ کو بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی جدائی تمام جماعت کے لئے نہایت شاق ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہیں کہ وہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو اپنے قرب میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے ( آمین ) نیز آپ کی اولادکو اپنے خاص فضل و کرم سے دونوں جہان کی نیکیوں سے نوازے۔آمین“ اے کراچی:۔سیرت النبی کے جلسے ۲۵ ا کتوبر کو احمد یہ ہال میں مستورات کا جلسہ سیرت النبی منعقد ہوا جس میں بہت سی غیر احمدی معزز خواتین بھی شامل ہوئیں۔صدارت کے فرائض مشہور مسلم لیگی لیڈر نواب صدیق علی خاں صاحب کی بیگم صاحبہ نے سرانجام دیئے۔۔۔ا الفضل ۸ نومبر ۱۹۵۵ء صفحه ۶ ۲ افضل ۸ نومبر ۱۹۵۵ء صفحیم