تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 373 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 373

373 کی حقیقت پر تقاریر کیں۔دوسرے اجلاس میں حضرت مصلح موعود کی تقریر مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئی۔حضور کی تقریر کے علاوہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم اور محترم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائل پوری کی تقریریں بھی مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔حضور کی تقریر :۔حضور نے مردانہ جلسہ گاہ سے ہی اپنی تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر میں مختصر طور پر مستورات سے خطاب فرمایا۔حضور نے پہلے تو چندہ مسجد ہالینڈ کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ اس وقت تک ان کا چندہ ساٹھ پینسٹھ ہزار کے قریب ہوا ہے حالانکہ خرچ کا اندازہ ایک لاکھ دس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔اس سال عورتوں نے اکیس ہزار روپیہ جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے صرف نو ہزار جمع ہوا ہے۔اس میں ایک حد تک عہد یداروں کی سستی کا دخل معلوم ہوتا ہے۔ورنہ جو مستورات ربوہ میں اپنی تعمیر کے لئے غیر معمولی چندہ دے سکتی ہیں کوئی وجہ نہیں کہ وہ مسجد ہالینڈ کے لئے مطلوبہ رقم جلد پوری نہ کر لیں:۔اس کے بعد حضور نے پردہ کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ۔۔۔۔۔”پرانے زمانے میں پردے کو اتنی بھیا نک شکل دے دی گئی تھی کہ وہ اچھا خاصا قید خانہ معلوم ہوتا تھا۔ایسے پردے کا سلام کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔لیکن اس زمانہ میں پردے کی بھیانک صورت کا رد عمل اس رنگ میں ظاہر ہورہا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں لگتا کہ پردہ آخر کس چیز کا نام ہے۔عورتیں مردوں سے مصافحے کرتی ہیں۔ان میں آزادانہ پھرتی ہیں اور پھر بھی وہ اسلامی پردہ کی قائل کہلاتی ہیں۔اگر اسلامی پردہ اسی کو کہتے ہیں تو پھر پتہ نہیں بے پردگی کس کا نام ہے۔بے پردگی اختیار کرنے کا رواج بالعموم اعلیٰ طبقہ اور بڑے افسران میں ہوتا ہے۔یہ لوگ پہلے ہی اپنے آپ کو ایک بڑے مقام پر سمجھ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے اگر انہیں ذراسی ٹھیس لگے تو ان کے گر جانے کا احتمال ہوتا ہے۔پس پیار اور محبت سے اس عیب کا ازالہ کر و سختی نہ کرو۔اگر کرو گے تو جو تھوڑی بہت وابستگی ان لوگوں کی اسلام کے ساتھ باقی ہے وہ بھی نہ رہے گی۔اس امر کو ہمیشہ ملحوظ رکھو کہ دین کی اصل جڑ محبت الہی اور محبت رسول کریم عملہ ہے اگر یہ قائم ہے تو باقی عیوب آہستہ آہستہ دور ہو سکتے ہیں۔“ اس کے بعد حضور نے مردوں کو عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔