تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 299 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 299

299 مگر حضرت ام المومنین ایک ماں کا دل رکھتیں تھیں۔ایک عورت تھیں لیکن اس زمانہ کی عظیم ترین عورت۔اللہ تعالیٰ پر جو کامل ایمان آپ کو حاصل تھا اس کے نتیجہ میں آپ نے فرمایا ” میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں“ جب آپ نے خدائی مگر بھاری امتحان کو بشاشت قلب سے قبول کر لیا تو آسمان پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق الہی ارشاد ہوا۔خدا خوش ہو گیا۔" ! حضرت ام المومنین کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ الہام سنایا تو آپ نے فرمایا:۔مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مر جاتا تو میں پرواہ نہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور کامل تو کل کا جو نمونہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے موقع پر دکھایا اس کی بھی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔حضرت مرزا بشیر احمد فرماتے ہیں:۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی (اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے ) اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت اماں جان نور الله مرقدها ورفعها في اعلى عليين آپ کی چار پائی کے قریب فرش پر آکر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہو کر عرض کیا:۔خدایا ! یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑیو یہ ایک خاص انداز کا کلام تھا جس سے مراد یہ تھی کہ تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔اور دل اس یقین سے پر تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔اللہ! اللہ ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی وہ جو گو یا ظاہری لحاظ سے ان کی ساری حشمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا تو کل اور ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔“ سے پھر وفات کے بعد حضرت ام المومنین نے اس وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں ان نہ بھولنے والے الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ :۔بچو ! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے ا تذکرہ ، طبع دوم سوم ص ۷۳۱ سیرت حضرت ام المومنین حصہ اول ص ۲۸۸ سے حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تقریر ص ۱۰۷