تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 298
298 پانچ سال زندہ رہ کر جولائی ۱۸۹ء میں وفات پاگئیں۔ان کی وفات پر دوبارہ شور و غوغا کا ایک سیلاب آیا۔حضرت ام المومنین نے اس بچی کی پیدائش پر سارے اعتراضات کو سنا لیکن آپ کے ایمان میں ذرا جنبش نہیں ہوئی اور جب اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے پاس واپس بلا لیا تب بھی آپ نے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا اور نہ جزع فزع کیا۔حضرت ام المومنین کے بطن سے دوسرا بچہ بشیر اول پیدا ہوا اس کی پیدائش ۷ اگست ۱۸۸۷ء کو ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بچہ کو موعود لڑ کا خیال کیا۔بشیر اول ۲۳ دن بیمار رہ کر ۴ / نومبر ۱۸۸۸ء کو وفات پا گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں:۔قدرت خدا کی کہ ایک سال بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا بس پھر کیا تھا ملک میں طوفان عظیم بر پا ہوا اور سخت زلزلہ آیا حتی کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری کا خیال تھا کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا۔اس موقع پر بھی حضرت ام المومنین نے اللہ تعالیٰ کی قضاء پر کامل رضا کا نمونہ دکھایا جب آپ نے دیکھا کہ بچہ کے اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں پھر اپنی نماز کیوں قضا کروں چنانچہ آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر کے دریافت فرمایا کہ بچہ کا کیا حال ہے۔جب آپ کو بتلایا گیا کہ بچہ فوت ہوگیا تو آپ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر خاموش ہوگئیں موعود بیٹے کی پیدائش کے متعلق آپ کے دل میں کوئی شک پیدا نہیں ہوا۔صاحبزادہ مبارک احمد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین کے آٹھویں بچے تھے۔آپ ۱۸۹۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۰۷ء میں وفات پاگئے۔آپ کی وفات سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا:۔ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان قبول کر“ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تو یہ عظیم الشان مقام تھا کہ مبارک احمد فوت ہوتے ہیں لوگ رور ہے ہیں آپ فرماتے ہیں:۔میں اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی“ سیرت المہدی حصہ اول صف ۸۸ تذکرہ طبع سوم ص ۷۰۰