تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 189 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 189

189 لجنہ لاہور سے حضرت خلیفہ لمبی الثانی کا خطاب : السیح ۵۔جون کو سات بجے شام احاطہ رتن باغ لاہور میں لجنہ اماءاللہ لا ہور کے ایک اجتماع سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے خطاب فرمایا۔حضور نے اپنی تقریر کے آغاز میں بتایا کہ:۔میری طبیعت آج کل ایسی تو نہ تھی کہ میں کوئی تقریر کر سکتا لیکن ایک دن جبکہ مجھے شدید ہیٹ سٹروک کی تکلیف تھی اور میں سخت سردرد کی وجہ سے اپنے بستر پر پڑا ہوا تھالا ہور کی لجنہ اماءاللہ کی چند عہد یدار میرے پاس ربوہ پہنچیں اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا ہے کہ آپ بلوچستان جا رہے ہیں ہم چاہتی ہیں کہ آپ ہمارے اجتماع میں بھی ایک تقریر فرمائیں۔فوری طور پر اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے میرا خیال اس طرف گیا کہ میں انکار کر دوں لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ میں تو اپنے کمرہ میں بھی گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے بیمار ہوں اور یہ اس شدید گرمی میں لا ہور سے چل کر آئی ہیں تو میں نے کہا کہ شاید میرا انکار اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو چنانچہ میں نے تقریر کرنا منظور کر لیا۔“ اس کے بعد حضور نے سورہ فلق کی لطیف تفسیر بیان فرماتے ہوئے اپنا ایک رؤیا سُنایا اور عورتوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:۔”اے عورتو! تمہارے لئے آزادی کا وقت آگیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ تمہارے لئے ترقی کے بے انتہاء راستے کھول دیئے ہیں۔اگر اس وقت بھی تم نہیں اُٹھو گی تو کب اُٹھو گی ؟ اور اگر اس وقت بھی تم اپنے مقام اور درجہ کے حصول کے لئے جد و جہد نہیں کروگی تو کب کروگی ؟۔۔۔اگر تمہارے مرد تمہاری بات نہیں مانتے اور وہ دین کی خدمت کے لئے تیار نہیں ہوتے تو تم ان کو چھوڑ دو اور انہیں بتا دو کہ تمہارا تعلق اُن سے اُس وقت تک ہے جب تک وہ دین کی خدمت کرتے ہیں۔بے شک قرآن کریم نے یہ بتایا ہے کہ اگر مرد جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوگا اور عورت نچلے مقام پر ہوگی تو عورت بھی اس کے پاس رکھی جائے گی۔اسی طرح اگر عورت اعلیٰ مقام پر ہوگی تو مرد بھی اس کے پاس رکھا جائے گا۔“ سے ا محترمہ امتہ اللہ مغل صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ لا ہور اور محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ بنت میاں معراج الدین صاحب پہلوان مرحوم سیکرٹری لجنہ اماءاللہ بھاٹی گیٹ لاہور ، ربوہ تشریف لائی تھیں اور لاہور میں محترمہ امتہ اللہ صادق صاحبہ نے جلسہ کے انتظامات کئے تھے۔ل الازهار لذوات الخمار حصّہ دوم ص ۸۳، ص۸۴