تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 91 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 91

91 جس میں ایک خاتون محترمہ علیہ علی صاحبہ (انڈیانا پولیس) تھیں جن کو فنانشل سیکرٹری کا عہدہ دیا گیا۔1 لجنہ اماءاللہ کی جلد دوم کی ترتیب کے وقت حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے محترمہ سعیدہ لطیف صاحبہ جو لجنہ اماءاللہ امریکہ کی سرگرم ممبر ہیں کو لکھا کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۸ء تک کے حالات ریکارڈ سے مرتب کر کے بھجوائیں۔انہوں نے ذیل کا نوٹ لکھ کر بھجوایا ہے جس سے وہاں کی ابتدائی ممبرات کی بے مثال قربانیوں پر روشنی پڑتی ہے:۔تاریخ لجنہ اماءاللہ ریاستہائے متحدہ امریکہ:۔اس زمانے میں جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں احمدی عورتوں کی تنظیم کو ابھی باقاعدہ طور پر لجنہ اماءاللہ کے نام سے موسوم نہیں کیا جاتا تھا۔احمدی بہنیں اکثر اکھٹی ہو کر احمدیت جسے انہوں نے دل سے قبول کیا تھا کے متعلق گفتگو کرتیں اور اسلام کی خدمت کرنے کے مختلف ذرائع اور منصوبوں کے متعلق سوچتیں۔اس طرح ایک جگہ جمع ہو کر وہ زیادہ وقت سینے پرونے ، کشیدہ کاری اور کروشیا سے مختلف چیزیں بنانے میں گزارتیں نیز جو کچھ وہ ان کاموں کے متعلق جانتی تھیں سیکھنے کی شائق بہنوں کو سکھا یا کرتیں۔ان اجتماعات کا بنیادی سبب اور وجہ اسلامی تعلیم میں دلچسپی تھی۔اس کے علاوہ بہنیں مقامی مشن ہاؤس کی صفائی اور سجاوٹ بھی بہت خوشی سے کرتی تھیں۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا تعارف اس ملک میں DEPRESSION YEARS جو کہ ۱۹۲۰ء سے ۱۹۴۰ء تک کا عرصہ ہے کے دوران ہو ا۔ان دنوں بے روزگاری عام تھی اور پیسے کی بہت قلت تھی تاہم انہیں سالوں میں سب سے زیادہ تعداد میں لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔کلیولینڈ (اوہائیو ) کی بہن منیرہ افضل بتاتی ہیں ”ہم اتنے غریب تھے اور میرا خاندان اس قدر شکستہ حال تھا کہ جمعہ کے روز میں علی الصبح مشن ہاؤس جاتی اور اپنے ساتھ پانی کی بالٹی ، گھر میں بنائے ہوئے صابن کا ٹکڑا اور کپڑا لے جاتی اور ان چیزوں کی مدد سے مسجد جو کہ ایک بہت بڑے ہال پر ستمل تھی کہ اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں سے رگڑ رگڑ کر صاف کرتی ، کام کے دوران میں بشاشت قلبی سے خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتی رہتی اور خدا تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتی کہ اُس نے مجھے احمدیت کی خاطر کچھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے بعد میں نماز ادا کرتی اور جمعہ کی تقریبات شروع ہونے سے پہلے مسجد سے واپس چلی جاتی تاکہ مجھے کوئی دیکھ نہ لے۔“