تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 89 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 89

89 خدام الاحمدیہ مرکز یہ مہیا کرتی تھی) کی درستی کا کام سرانجام دیتی رہیں۔یہ کام روزانہ صبح آٹھ نو بجے شروع کر کے شام کے چھ بجے تک کیا جاتا تھا۔پہلے تو ہر روز مستورات کو ان کے گھروں سے بلوایا جاتا رہا لیکن پھر عورتوں میں اس کارِ ثواب میں حصہ لینے کا ایسا شوق پیدا ہوا کہ وہ روزانہ خود نہایت خوشی کے ساتھ آجاتیں اور دن بھر بشاشت قلب سے یہ کام کرتیں حتی کہ اگر کسی دن بارش بھی ہوتی تو بھی وہ موسم کی پرواہ نہ کرتیں اور بلا ناغہ وہاں آکر اس قومی خدمت میں حصہ لیتی رہیں۔وردیوں کے بٹن لگا ئے جاتے ، کاج درست کئے جاتے ، حسب ضرورت پیوند لگائے جاتے اور ہر قمیض پر دو پیج بھی لگائے جاتے تھے۔اِس سلسلہ میں لجنہ اماءاللہ کے رجسٹر میں ۵۔نومبر ۱۹۴۸ء کو جور پورٹ محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ جنرل سیکرٹری حلقہ جات مہا جرات قادیان اور بھابی زینب صاحبہ صد ر حلقہ جات مہا جراتِ قادیان کے دستخطوں سے محترمہ صالحہ در و صاحبہ نائب جنرل سیکرٹری نے لکھی ہے اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تاریخ تک مستورات قادیان ڈیڑھ ہزار کے قریب کپڑوں کی درستی کر چکی تھیں اور قریباً اتنے ہی پیج تیار کر چکی تھیں۔فرقان فورس کے مجاہدین کے لئے ممبرات لجنہ اماءاللہ لا ہور نے خا کی زمین کے بٹوے بھی تیار کئے تھے جن میں قینچی ، چا تو، پنسل، سوئی دھاگہ، کنگھی اور پاکٹ بک رکھی گئی تھی تاہر مجاہد اپنی جیب میں رکھے اور بوقت ضرورت اس کے کام آسکے۔محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ سیکرٹری لجنہ اماءاللہ بھاٹی گیٹ نے اس سلسلہ میں سب سے زیادہ محنت سے کام کیا تھا اور قریباً پانچ صد بٹوے تیار کر کے دیئے تھے۔اس کام میں تعلیم القرآن کلاس کی طالبات نے بھی حصہ لیا۔وہ کئی دن روزانہ ایک گھنٹہ اس کام کے لئے وقف کرتی رہیں۔کپڑوں کی مرمت کے لئے سوئیوں اور دھاگے کی ضرورت تھی چنانچہ اس کے لئے تحریک کی گئی اور لاہور کی مستورات نے بڑی خوشی کے ساتھ اس میں حصہ لیتے ہوئے حسب ضرورت سوئیاں اور دھاگے فراہم کئے۔سامان جمع کرنے میں محترمہ امتہ اللہ مغل صاحبہ اہلیہ محترم احمد دین صاحب ، اور زینب حسن صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر حسن صاحب نے بہت محنت کی۔عورتوں کی اوسط حاضری روانہ کم و بیش چالیس رہی۔اس کے علاوہ پانچ صدر و پیہ نقد بھی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مجاہدین کے لئے پیش کیا جس میں سے