تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 88
88 کہ امسال دسمبر کے آخری ایام میں پاکستان کی احمدی جماعتوں کا جلسہ سالانہ منعقد نہ کیا جائے اِس کی بجائے اپریل ۱۹۴۹ء میں نئے مرکز ربوہ میں یہ جلسہ انعقاد پذیر ہو۔اس فیصلہ کے مطابق امسال احمدی خواتین کا جلسہ سالانہ بھی منعقد نہ ہوا لیکن انہی دنوں میں جماعتِ لاہور نے اپنا جلسہ منعقد کیا جس میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی تقریر فرمائی۔جماعت احمد یہ لا ہور کا یہ جلسہ ۲۵ اور ۲۶۔دسمبر ۱۹۴۸ء کو ہوا۔اس کے آخری اجلاس میں حضرت مصلح موعودؓ نے تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان فرمایا کہ جماعت کا سالانہ جلسہ انشاء اللہ اپریل میں ربوہ میں ہوگا۔آپ نے فرمایا:۔گزشتہ دوسال سے عورتیں جلسہ میں شامل نہیں ہوسکیں حالانکہ قادیان کے جلسہ کے موقع پر اگر مرد میں ہزار ہوتے تھے تو عورتیں بھی پندرہ ہزار کے قریب ہوتی تھیں۔ربوہ کے اس پہلے جلسہ میں عورتوں اور بچوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔اگر تعمیر کا سلسلہ نہ بھی شروع ہوا تو عورتوں کے لئے قناتوں کا انتظام کر دیا جائے گا اور مرد کھلے میدان میں رہ سکیں گے۔یہ ایک نہایت ہی خوش کن نظارہ ہوگا۔حضرت سیدہ ام داؤد کی نگرانی میں مجاہدین کشمیر کیلئے مستورات کی خدمات: ۱۹۴۸ء میں فرقان فورس کے احمدی مجاہد آزادی کشمیر کی جنگ میں بہادرانہ کارنامے سرانجام دے رہے تھے۔یہ امر احمدی مستورات کے لئے اور بالخصوص لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے لئے باعث فخر ہے کہ احمدی خواتین نے ان مجاہدین کے لئے اور بالخصوص لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے لئے باعث فخر ہے کہ احمدی خواتین نے ان مجاہدین کے لئے وردیوں اور کپڑوں کی تیاری میں شبانہ روز محنت اور بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیا اور اس طرح اُن صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق پائی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مختلف غزوات میں اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے اہم جنگی خدمات ادا کرتی رہیں۔ان دنوں لجنہ اماءاللہ قادیان کا مرکز رتن باغ لا ہو ر تھا۔رتن باغ میں قادیان کی احمدی خواتین کم و بیش تین ماہ تک مسلسل حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ کی زیر نگرانی مجاہدین فرقان فورس کی وردیوں (جو الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۴۸ صفحه ۳ کالم نمبر ۳