تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 87 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 87

87 اور آپ کے خلفاء کے زمانے کی عورتوں نے دکھایا۔اگر آپ نے قرونِ اولیٰ کی خواتین جیسا کام کیا اور ویسی قربانیاں پیش کیں تو یقینا اللہ تعالے بھی آپ سے اپنا وعدہ اُسی طرح پو را کرے گا جیسا کہ اُس نے اُس زمانہ کی صحابیات کے ساتھ کیا آپ نے فرمایا ” ایک بہت بڑا کام آپ کے سامنے ہے۔دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے اسکے مقابلے میں آپ نے بھی ترقی کرنا ہوگی۔اُن لوگوں کی ترقی تو دنیاوی ترقی ہے مگر آپ نے روحانی ترقی کرنا ہوگی۔انہیں آپ نے یہ ثابت کر کے دکھانا ہوگا کہ کس طرح سے احمدی خواتین شریعت کے تمام احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے پر دے کے اندر رہ کر مذہب کی خدمت اور روحانی ترقی کر سکتی ہیں۔آپ نے تمام عہد یداروں کو باہمی تعاون کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ” تمام عہدیدار آپس کے تعاون سے کام کریں اور ممبرات ہر عہدہ دار سے تعاون کریں۔“ آخر میں آپ نے تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ”ہر احمدی عورت کا بھی فرض ہے کہ وہ تبلیغ کرے اور دلائل کی تلوار سے کام لے کیونکہ یہی ایک بڑا حربہ ہے جس سے دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔“ لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کی طرف سے ایک کلاک بطور تحفہ دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے لئے پیش کیا گیا۔بعض معزز غیر احمدی خواتین بھی شاملِ جلسہ ہوئیں۔اس سال لجنہ کوئٹہ کی سیکرٹری محترمہ مبارکہ صاحبہ بنت محترم ڈاکٹر عبداللہ خاں صاحب تھیں جو قبل از ہجرت دار البرکات قادیان کے ایک حلقہ کی سیکرٹری تھیں۔امتحان کتاب "أسوة حسنة“: سالِ رواں میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے زیر انتظام صرف ایک ہی امتحان لیا گیا۔۳۔نومبر ۱۹۴۸ء کو کتاب اسوۂ حسنہ کا امتحان ہوا۔محترمہ زینب صاحبہ اہلیہ محترم محمود الحسن صاحب ( بنت حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب (36/50 نمبر لیکر اول آئیں۔جلسہ سالانہ کا التواء: نیا مرکز۔ربوہ کے قیام کے ابتدائی مراحل سرعت کے ساتھ طے کئے جارہے تھے لیکن ہنوز یہ مرکز اس قابل نہیں تھا کہ یہاں پر جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ منعقد کیا جائے۔اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا الفضل ۲۶۔اگست ۱۹۴۸ء صفحہ ۷