تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 74 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 74

74 حضرت مصلح موعودؓ کے اس ارشاد کی تعمیل میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا ۳۰ مئی ۱۹۴۸ء کو ایک اجلاس بلا یا گیا اور عورتوں میں حضرت مصلح موعودؓ کی آواز پہنچانے اور حضور کے ارشاد پر عمل کروانے کے لئے ایک سیکرٹری کا عہدہ لجنہ مرکز یہ میں بڑھایا گیا اور اس عہدہ پر محترمہ امتہ المجید صاحبہ ایم۔اے بنت محترم چوہدری وزیر محمد صاحب کا ۴۸۔۵۔۳۰ کے اجلاس میں تقر ر کیا گیا۔چنانچہ انہوں نے الفضل میں بار بار اس سلسلہ میں اعلانات کئے اور بہنوں کے سامنے وصیت کرنے کی شرائط اور وصیت کرنے کے طریق کی وضاحت کی ۴۲ لجنات کو خاص طور پر مخاطب کر کے تحریک کی اور تمام لجنات کو ہدایت کی کہ وہ جائزہ لے کر اطلاع دیں کہ ان کی لجنہ میں کتنی مستورات موصیہ ہیں اور کتنی نے ابھی تک وصیت نہیں کی۔اس سلسلہ میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اس وقت تک صرف سکندرآباد (دکن) کی لجنہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی تمام ممبرات خدا تعالی کے فضل سے موصیہ ہیں لے چنانچہ اس کے نتیجہ میں کثرت سے خواتین نے وصیتیں کیں۔۴۔جون ۱۹۴۸ء کو خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔میں پچھلا خطبہ دے کر گھر گیا تو کئی رقعے مجھے اسی وقت پہنچ گئے۔مردوں کے بھی اور عورتوں کے بھی۔جن میں یا تو نئی وصیتیں کرنے کی اطلاع تھی یا زائد چندہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ رو متواتر بڑھتی چلی جارہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کام کرنے والے اگر اچھی طرح کام کریں تو چھ ماہ یا سال کے اندراندر ساری جماعت اس معیار پر آجائے گی۔لجنہ اماءاللہ چنیوٹ - احمد نگر اب چونکہ مرکز سلسلہ کے قیام کے لئے ربوہ کی زمین حاصل کی جا چکی تھی اس لئے حضور رضی اللہ عنہ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ میں منتقل کر دیا اور جامعہ احمد یہ پہلے چنیوٹ میں اور پھر فروری ۱۹۴۸ء میں ربوہ کے قریبی مقام احمد نگر میں منتقل کر دیا گیا۔ان اداروں کے منتقل ہونے کی وجہ سے قادیان کے بہت سے لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر چنیوٹ اور احمدنگر میں آباد ہو گئے اور اس آبادی ل الفضل ۱۵۔جولائی ۱۹۴۸ء صفحہ ۷ الفضل ۳۰۔جون ۱۹۴۸ صفحیہ کالم نمبر ۲