تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 73
الله 73 تنخواہ دار سیکرٹری کا بھی اضافہ کیا جائے مگر اس خاتون کو اعتراض ہے کہ ایک کلرک بھی کیوں ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہندوستان اور امریکہ میں چار سولجنات پائی جاتی ہیں ان سب کا کام ایک کلرک کیسے کر سکتی ہے۔اس خاتون نے تو غالباً تعلیم نہیں پائی اس لئے شاید وہ اس کی اہمیت نہ سمجھ سکیں لیکن اس بارہ میں وہ اپنے خاوند سے ہی دریافت کر لیں۔میری بیوی ایم۔اے کا امتحان دے رہی ہے اور دو سال کی پڑھائی آٹھ مہینہ میں کر رہی ہے۔اس خاتون نے خود تو کوئی امتحان نہیں دیا ہو گا اس کے خاوند اور بھائیوں نے تو ایم۔اے کی تیاری کی ہوگی وہ ان سے ہی پوچھ سکتی ہیں کہ اس پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے۔چار گھنٹے ان کو صرف پروفیسر پڑھاتے ہیں اور پڑھائی کو یاد کرنے کے لئے بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔کچھ میں بھی ان سے دفتر کا کام لیتا ہوں اس لئے ان پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ وہ کام نہیں کرتیں۔تحریک وصیت : جماعت احمدیہ کی اکثریت سے عارضی طور پر ان کا مرکز قادیان چھٹ چکا تھا مگر جماعت کو یقین تھا کہ اللہ تعالی ضرور اپنے وعدے کے مطابق اسے قادیان واپس دلائے گا۔اللہ تعالی کے اس وعدہ پر یقین کے اظہار کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۸۔مئی کو لا ہور میں خطبہ جمعہ میں وصیت کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا:۔اس وقت میرے نزدیک کم سے کم تحریک یہ ہونی چاہیئے کہ جماعت کا ہر فرد وصیت کر دے۔دُنیا میں ہر چیز کے مظاہرے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ہمارے ہاتھ سے قادیان نکل جانے کی وجہ سے دشمن کی نظریں اس وقت خاص طور پر اس امر کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ بہشتی مقبرہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے جس کے لئے یہ لوگ وصیت کیا کرتے تھے۔اب ہم دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیسے وصیت کرتے ہیں۔اس اعتراض کو ر ڈ کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہر احمدی وصیت کر دے اور دُنیا کو بتا دے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر جو ایمان اور یقین حاصل ہے وہ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکلنے یا نہ نکلنے سے وابستہ نہیں۔‘۲ له الفضل ۲۶ مئی ۱۹۴۸ء الفضل ۵ - جون ۱۹۴۸ء صفحه ۵ کالم نمبر ۲