تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 556
556 آمنا و صدقنا کہتے ہوئے لبیک کہتیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے کوشاں رہتیں اور کس طرح خواتین مبارکہ کی مساعی اور نیک نمو نے ان کے سامنے ہوتے۔اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ تاریخ اور سن وار واقعات کو اس خوبی سے قلمبند کیا گیا ہے کہ واقعات کے تسلسل کا ایک نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ہر واقعہ جامعیت اور اختصار کے ساتھ لکھا گیا ہے۔غرض کہ تاریخ لجنہ کی اور زبان حضرت چھوٹی آپا کی ،شیر میں سادہ لیکن پراثر جو قاری کے دل میں اترتی چلی جائے۔یہ کتاب تاریخ احمدیت اور تاریخ لجنہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت ہی نہیں رکھتی بلکہ ہم موجودہ خواتین کے لئے ایک تحریک کا کام بھی دیتی ہے اور ہم کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ خواتین جن کے مال محدود جن کے وسائل محدود، جن کے ماحول تنگ اور متعصب ، جن کی تعلیم مختصر اور جن کے شعور موجودہ ترقی کی جلا سے دور ، اس ایمانی، مالی علمی عملی اور عقلی خدمات ایثار و قربانیاں کر سکتی تھیں تو کیا یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ ہم ہر قسم کی سہولتیں میسر ہونے کے باوجود ان سے اس قدر کیوں پیچھے ہوں۔اس تاریخ کا ہر گھر میں ہونا اشد ضروری ہے اور نہ صرف موجودگی سے کام بنتا ہے بلکہ ہم کو اس کا 66 بار بار مطالعہ کرنا اور اپنے جلسوں میں اسے سنانا چاہیئے تا کہ ہم بھی ان خواتین اولیٰ کے نمونے سے کچھ سیکھ سکیں۔اللہ تعالیٰ ہم کو اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے اور حضرت چھوٹی آپا کو اس حسین و جمیل پیشکش پر بہت بہت جزا دے۔آمین اھم آمین۔“ ۱۱۔مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ مجھے پرسوں (ترسوں) آپ کی معرکہ آراء تصنیف ” تاریخ لجنہ اماءاللہ (جلد اول)‘ دیکھنے کا موقعہ ملا۔تاریخ احمدیت کی طرز، اسی تقطیع و تکتیب پر ، اسی طرح مانوس و مقبول ، پھر طرز تحریر اس قدر دلکش که ساری جلد تعارف اور عرض حال سمیت عملاً ایک ہی SITTING (نشست) میں پڑھ گیا۔معلومات افزا واقعات اور دلچسپ مواد نے طبیعت میں کسی قسم کی اکتاہٹ پیدا کرنے کی بجائے میری دلچسپی برابر قائم رکھی اور مجھے وقت کا احساس تک نہ ہوا۔سیدہ محترمہ ! اگر چہ آپ نے نہایت فراخدلی اور ذرہ نوازی سےاس MONUMENTAL