تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 531 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 531

531 سکول تھیں۔مولوی رشید احمد صاحب چغتائی، محترمہ مبارکہ شوکت صاحبه، محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبہ، عاجزہ امتہ الطیف اور محتر مہامہ اللہ خورشید صاحب مرحومہ طالبات کو پڑھاتی رہیں۔نتیجہ مندرجہ ذیل رہا:۔اول دوم قانتہ شاہدہ صاحبہ بنت قاضی محمد رشید صاحب محموده اختر صاحبه صفیہ صاحبہ بنت غلام حید ر صاحب باقی کامیاب طالبات کے نام مندرجہ ذیل ہیں:۔امته الرحمن ، صفیہ صاحبہ، سعیده شمیم صاحبہ، امۃ الرشید صاحبہ، سلیمہ فرزانہ صاحبہ، شاہدہ معین صاحبہ امتہ الکریم صاحبہ، حامدہ اختر صاحبه نسیم فردوس صاحبه ، عطیه جبین صاحبہ، مسعوده خانم صاحبه دوالمیال، ثریا جبین صاحبہ دوالمیال، صاحب نور صاحبه دوالمیال محمودہ شوکت صاحبہ کھاریاں، سیدہ امتہ الحمید صاحبہ کھاریاں، امتہ السلام صاحبہ کھاریاں، امتہ العزیز صاحبہ احمد نگر ا نتیجہ امتحان ضرورۃ الامام :۔۱۴ را گست ۱۹۵۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رسالہ ”ضرورۃ الامام کا امتحان لیا گیا۔بیرونی بجنات میں سے پشاور کی منظور ناہید اول آئیں اور لجنہ اماءاللہ ربوہ کے حلقہ جات میں سے امتہ الحفیظ صاحبہ اہلیہ کیپٹن ملک خادم حسین صاحب اول آئیں ہے امتحان کشتی نوح: ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو کشتی نوح کا امتحان لیا گیا۔کل ۲۵۱ ممبرات شامل ہوئی جن میں۔۱۶۸ کامیاب ہوئیں۔ناصرہ بیگم صاحبہ محمد آباد اسٹیٹ اول، لجنہ کراچی کی ایک ممبر دوم اور پروین اختر سوم رہیں۔اجتماع کے موقع پر انعامات دیئے گئے سے ا الفضل ۲۲ مئی ۱۹۵۸ء صفحه ۶ ۲ الفضل ۱۴۔اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۶ رپورٹ کارگذاری ۵۹ - ۱۹۵۸ء صفحریم