تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 522
522 آپ کا قیمتی وجود حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اس دیرینہ خواہش ، تڑپ اور تمنا کو ملی رنگ میں پورا کرنے والا ہے کہ حضور کے حرم میں ایک ایسا وجود بھی موجود ہو جو اعلیٰ دینی ودنیوی تعلیم سے مزین ہونے کے بعد حضور کی زیر ہدایت احمدی خواتین کی قیادت کے فرائض سرانجام دے سکے۔حضور نے اپنی اس خواہش کا اظہار کئی دفعہ فرمایا۔مثلاً ا۔جب حضور کی حرم حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ نے وفات پائی تو حضور نے فرمایا؟ ”میرے نزدیک کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی عورتوں میں تعلیم نہ ہو۔۔۔۔۔میں نے ان سے جو شادی کی اس وقت میری یہ نیت تھی کہ ان کے ذریعہ بآسانی عورتوں میں تعلیم دے سکوں گا۔“ اے مرحومہ جب فوت ہو گئیں۔میرے دل کا ایک کو نہ خالی ہو گیا۔میری وہ سکیم جومستورات کے متعلق تھی یوں معلوم ہوا کہ ہمیشہ کے لئے تہ کر کے رکھ دی گئی۔امتہ الھی مرحومہ کی وفات کے بعد مجھے سلسلہ کی مستورات کی تعلیم کی نسبت فکر پیدا ہوئی۔“ ۳۔حضرت سیدہ ساره بیگم صاحبہ سے نکاح کے موقع پر حضور نے فرمایا:۔” میری توجہ اس طرف مائل ہوئی کہ عورتوں میں اعلیٰ تعلیم کو رواج دینے اور ان میں سلسلہ کی روح پیدا کرنے کے لئے کسی ایسی لڑکی سے شادی کروں جو تعلیم یافتہ ہو اور جسے میں صرف تربیت دے کر تعلیمی کام کرنے کے قابل بنا سکوں۔“ اس موقعہ پر آپ نے عورتوں کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا:۔”خدا تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ اس شادی کو میرے لئے بھی مبارک کرے اور۔۔۔پھر اس کمزور اور متروک صنف کے لئے بھی جو عورتوں کی صنف ہے مبارک کرے جس کے حقوق سینکڑوں سالوں سے تلف کئے جار ہے ہیں جو خدا تعالیٰ سے رحم کے لئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر پکار رہی ہے کہ اے خدا! کیا تیرا رحم مردوں کے لئے مخصوص ہے یا عورتوں کے لئے بھی ہے۔خدا تعالیٰ ان پر اپنا فضل اور رحم نازل کرے۔‘ے الفضل ۳۔جنوری ۱۹۲۵ء صفحہ ۷ الفضل ۱۸۔اپریل ۱۹۲۵ء الفضل ۱۸۔اپریل ۱۹۲۵ء