تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 523 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 523

523۔۱۹۳۳ء میں جب حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ نے وفات پائی تو حضور نے اپنے ایک لمصل مضمون میں تحریر فرمایا:۔مرحومہ نے جب ایف۔اے کا امتحان دیا تو میں نے ان سے کہا کہ اب تم سرے کے قریب پہنچ چکی ہو۔اللہ تعالیٰ پاس کر دے تو بی۔اے کی تیاری کرو۔شاید اس طرح تم کو زنانہ سکول میں کام کرنے کا موقع ملے اور سلسلہ کو بغیر مالی بوجھ برداشت کرنے کے ایک ہیڈ مسٹریس مل جائے“ مندرجہ بالا سطور میں حضرت اصلح الموعود نے جس خواہش کا اظہار فرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کو اسے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ نے حضور کے عقد نکاح میں آنے کے بعد اہم دینی مصروفیات اور عدیم الفرصتی کے باوجود حضور کی زیر ہدایت اعلیٰ تعلیم (ایم۔اے تک ) حاصل کی اور حضور کی تربیت اور دعاؤں سے فیضیاب ہوکر اپنے آپ کو اسلام ،سلسلہ احمد یہ اور اپنے مقدس اور عظیم شوہر کی خدمت اور اس کے بلند دینی عزائم کو پورا کرنے کے لئے وقف کر دیا۔ان دینی عزائم کا ایک اہم حصہ احمدی خواتین کی دینی تربیتی علمی اور تعلیمی ترقی کی خواہش پر مشتمل تھا۔یہ خواہش جامعہ نصرت جیسے عظیم الشان تعلیمی ادارے کے قیام کی صورت میں پوری ہوئی۔حضرت سیده مریم صدیقہ صاحبہ کو خود مصلح موعودؓ نے اس ادارے کی آنریری ڈائر یکٹرس مقرر فرمایا۔اور اس طرح حضور کا وہ ارادہ پورا ہو گیا جس کا اظہار حضور نے سیدہ سارہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا کی تعلیمی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا تھا کہ ”سلسلہ کو بغیر مالی بوجھ برداشت کرنے کے ایک ہیڈ مسٹرس مل جائے۔“ اس ادارہ نے حضرت سیدہ ممدوحہ کی راہنمائی میں سرعت کے ساتھ نمایاں ترقی کی۔اب تک سینکڑوں احمدی بچیاں اس ادارے کے ذریعے زیور علم سے آراستہ ہو کر اعلیٰ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کر چکی ہیں اور آپ کی تربیتی تنظیمی صلاحیتوں کے جو ہر لجنہ اماءاللہ کی عظیم تنظیم کے ذریعے اجاگر ہوئے جو حضور کی عمومی ہدایات کے ماتحت آپ کی نگرانی اور توجہ کی بدولت سرعت کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتی رہی۔یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے سکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا تو اس کے بعد قلیل عرصہ میں لجنات کی تعداد پچاس سے ترقی کر کے دوصد تک جا پہنچی۔اندرون ملک میں اور پھر بیرون ممالک میں سینکڑوں فعال اور سرگرم لجنات قائم ہوئیں۔ربوہ میں دفتر اور لجنہ