تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 514
514 - طرح ہماری جماعت کی عورتوں کو چاہیئے کہ ان کی عورتوں سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔تمہیں اس سے کیا کہ کوئی کتنا مالدار ہے۔تمہیں کسی مالدار کی ضرورت نہیں تمہیں خدا کی ضرورت ہے۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے ان مالداروں سے قطع تعلق کر لو گے تو بے شک تمہارے گھر میں وہ مالدار نہیں آئے گا۔لیکن تمہارے گھر میں خدا آئے گا۔اب بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کسی مالدار کا آنا عزت کا موجب ہے یا خدا تعالیٰ کا آنا عزت کا موجب ہے بڑے سے بڑا مالدار بھی ہو تو خدا تعالیٰ کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔تم اس بات سے مت ڈرو کہ اگر یہ لوگ علیحدہ ہو گئے تو چندے کم ہو جائیں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تھا تو اس وقت کتنے لوگ چندہ دینے والے تھے۔مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی جماعت پیدا کر دی کہ اب صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ ستر لاکھ روپیہ کا ہوتا ہے۔اور ہم امید کرتے ہیں کہ دو چار سال میں ہمارا بجٹ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے گا۔پس اگر ایک شخص سے چل کر ہماری جماعت کو اتنی ترقی حاصل ہوئی ہے کہ لاکھوں تک ہمارا بجٹ جا پہنچا ہے تو اگر یہ دس پندرہ آدمی نکل جائیں گے تو کیا ہو جائے گا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر ایک آدمی نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ہمیں ہزار دے دے گا۔پس ہمیں ان کے علیحدہ ہونے کا کوئی فکر نہیں۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ یہ صرف نام کے احمدی نہ ہوں بلکہ عملی طور پر بھی محمد ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہوں۔۔۔۔غرض عورتوں کا مکسڈ پارٹیوں میں جانا، مردوں کے سامنے اپنا منہ نگا کر دینا اور ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرنا یہ سب ناجائز امور ہیں۔لیکن ضرورت کے موقعہ پر شریعت نے بعض امور میں انہیں آزادی بھی دی ہے بلکہ قرآن کریم نے الا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے الفاظ استعمال فرما کر بتادیا ہے کہ جو حصہ مجبوراً ظاہر کرنا پڑے اس میں عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں اس اجازت میں وہ تمام مزدور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں کھیتوں اور میدانوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔اور چونکہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے لئے آنکھوں اور ان کے اردگرد کا حصہ کھلا رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کے کام میں دقت پیدا ہوتی ہے اس لئے إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے ماتحت ان کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا اور چونکہ انہیں بعض دفعہ پانی میں بھی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کے لئے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ پاجامہ اڑس لیں اور ان کی پنڈلی نگی ہو جائے۔بلکہ ہمارے علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو