تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 498
498 اور نامور مورخ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان نے حیدرآباد دکن ( انڈیا ) میں انتقال فرمایا۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ۷ ارجنوری ۱۹۵۸ء کو حضرت سیّدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا کی زیر صدارت حضرت عرفانی صاحب کی وفات پر تعزیتی قرار داد پاس کی لا ۳ ۳۱ دسمبر ۱۹۵۷ء کو خالد احمدیت محترم ملک عبدالرحمن صاحب ایڈوکیٹ امیر جماعت احمد یہ گجرات انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون محترم خادم صاحب مرحوم سلسلہ احمدیہ کے پر جوش ، کامیاب مناظر اور ممتاز عالم تھے۔خدا تعالیٰ نے تحریر و تقریر کا خاص اور منفر د ملکہ عطا فرمایا تھا۔اس ملکہ کو آپ نے عمر بھر سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کیا۔لجنہ مرکزیہ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۷ جنوری ۱۹۵۸ء میں آپ کی وفات پر بھی تعزیتی قرار داد پاس کی اور آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کی وفات کو ایک قومی صدمہ قرار دیا ہے ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بزرگوں اور خواتین کی وفات پر بھی لجنہ مرکزیہ نے تعزیتی قرار دادیں پاس کیں:۔ا۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ۲۔حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) سے۔حضرت پروفیسر علی احمد صاحب ایم۔اے بھا گلوری (صحابی ) آپ محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب کے والد ماجد تھے۔۴ ۴۔مولوی محمد احمد خاں صاحب ابن محترم خاں میر افغان ( آپ کو قبائلی علاقہ میں شہید کر دیا گیا تھا۔۵۔۵- استانی محمد بی صاحبہ مولوی فاضل - تاریخ وفات ۳ / مارچ ۱۹۵۷ء (ان کا تفصیلی ذکر دفتر لجنه کی بنیا درکھنے والی صحابیات میں آچکا ہے ) له مصباح فروری ۱۹۵۸ء صفحه ۵ ۲ مصباح فروری ۱۹۵۸ء صفحه ۲۵ سے تاریخ وفات ۹۔فروری ۱۹۵۷ء ۴۔تاریخ وفات ۲۲۔جون ۱۹۵۷ء 1 رجسٹر کارروائی لجنہ مرکزیہ ۵ تاریخ وفات ۲۹۔جون ۱۹۵۷ء