تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 495
495 ۵۔حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ ۶- کبیر والا ضلع ملتان ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بجنات کی طرف سے بہت کم رپورٹیں موصول ہوئیں:۔ا۔چنیوٹ ۲۔جھنگ ۳۔لائل پور شہر ۴۔گھسیٹ پورہ ۵۔گھیر ۶۔کھاریاں۔لالہ موسیٰ - چک ۹ شمالی شرگودها۹ - بیر ۱۰۰ - چک ۹ پنیا را چک ۱۵۲ شمالی ۱۲۔گھوگھیاٹ ۱۳۔ملتان شہر ۱۴۔اوکاڑہ ۱۵۔سیالکوٹ شہر ۱۶۔مانگا چانگریاں ۱۷۔کلاسوالہ ۱۸۔سمبڑیال ۱۹۔شیخوپورہ -۲۰ - چکوال ۲۱۔جہلم ۲۲۔حیدرآباد سندھ ۲۳ کنری ۲۴ - گوٹھ غلام محمد ۲۵۔قصور ۲۶۔نوشہرہ چھاؤنی ۲۷۔ایبٹ آباد ۲۸۔پشاور ۲۹۔کوہاٹ ۳۰۔واہ چھاؤنی ۳۱۔راولپنڈی ۳۲۔وزیر آباد۳۳۔چک نمبر ۸۸ منٹگمری ۳۴ منٹگمری اے استقبال :۔۱۲ جون ۱۹۵۷ء کو چناب ایکسپریس کے ذریعہ جرمن نومسلم مسٹر مین معہ اہلیہ ربوہ آئے جس پر چند مبرات لجنہ مرکز یہ ہار لے کر اسٹیشن پر گئیں اور لجنہ مرکزیہ کی طرف سے ان کی اہلیہ کا استقبال کیا گیا۔ہے نئی لجنات کا قیام:۔۱۹۵۷ء کے دوران مندرجہ ذیل نئی لجنات قائم ہوئیں:۔ا۔چنڈ بھروانہ ضلع جھنگ ۲۔ٹھٹھہ شیرے دا ضلع جھنگ ۳۔ٹھٹھہ سندرانہ ضلع جھنگ ۴۔چک نمبر ۶ ۶۴ ضلع لائل پور ۵ - عالم گڑھ ضلع گجرات ۶۔سرو کے ضلع گجرات۔۔کارہ دیوان سنگھ ضلع گجرات ۸ ٹھٹھہ جوئیہ ضلع سرگودھا -۹- چک نمبر ۱۵۲ شمالی ضلع سرگودھا ۱۰۔جو ہر آباد ضلع سرگودھا ۱۱۔رتیاں ضلع شیخو پور ۱۲۰۔گھیر ضلع گجرات ۱۳۔اڑ ضلع گجرات سالانہ رپوٹیں:۔لے ولے رجسٹر لجنہ مرکزیہ