تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 485
485 ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد ۷۵۰ تھی۔لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے سالانہ اجتماع پر ہی آنے والوں کی تعداد ۷۵۰ سے زیادہ ہوتی ہے تم نے ہالینڈ میں ایک شاندار مسجد بنائی ہے۔اس مسجد کی تصویر میں تم اپنے پاس رکھو۔بلکہ مرکز کو چاہیئے کہ وہ ان تصاویر کوعورتوں میں پھیلائے اور پھر یہ تصویریں تم دوسرے مسلمانوں کے سامنے پیش کر کے کہو تم ۱۹۵۳ء میں ہمیں مارنے کے لئے آئے تھے لیکن تمہیں کسی غیر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق نہیں ملی۔اگر ملی ہے تو اسی جماعت کی عورتوں کو ملی جسے تم کافر اور گمراہ کہتے ہو۔حالانکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے دنیا میں گھر بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ہم نے ہیگ میں مسجد بنالی ہے اور رسول اللہ کی اس حدیث کے مطابق ہمارے متعلق آپ کی شہادت موجود ہے کہ جنت میں اپنا گھر ہوگا۔احمدی عورتوں کے معیار وصیت کے متعلق تجاویز :۔۱۹۵۷ء میں جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت میں جوا۲۔۲۲ ۲۳ مارچ کو منعقد ہوئی۔عورتوں کے معیار وصیت کے متعلق بھی ایک اہم تجویز پیش ہوئی۔تجویز بیتھی :۔مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء میں مردوں اور عورتوں کے معیار وصیت مقرر کرنے کا معاملہ نظارت بہشتی مقبرہ کی طرف سے فیصلہ کے لئے پیش کیا گیا تھا۔جہاں تک مردوں کے معیار وصیت کا تعلق تھا یہ معاملہ اس مجلس میں حضرت امیر المومنین کے ارشادات و ہدایات سے صاف ہو گیا تھا لیکن عورتوں کے معیار وصیت کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔اس تجویز کے متعلق حضور نے فرمایا تھا کہ:۔” اب صرف عورتوں کا سوال رہ جاتا ہے۔اس کے متعلق فیصلہ باقی ہے کہ ان کی جائیداد بالعموم گذارہ والی نہیں ہوتی۔ان کے متعلق آیا کوئی تعین ہو یا نہ ہو۔مجھے اس بارہ میں دونوں صورتوں میں نقص نظر آتا ہے۔لیکن ابھی تک میرا نفس اس بارہ میں ایسا قانون نہیں بنا سکا جس پر میں مطمئن ہو سکوں۔اس لئے اس پر غور کر لیا جائے۔ہاں میں اس قدر سمجھتا ہوں کہ ان کے بارہ میں کوئی قید لگانا ے مصباح فروری ۱۹۵۸ء صفحه ۱۳۷۶ الا زہار حصہ دوم صفحہ ۱۹۵-۲۰۵