تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 470 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 470

470 امتحان رسائل خلافت :۔۱۹۵۶ء میں منافقین کا جو فتنہ ظاہر ہواتھا اس کے پیش نظر جماعت پر خلافت کی اہمیت واضح کرنے کے لئے ۹ ۱ اپریل ۱۹۵۷ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ اعلان فرمایا کہ ” جیسا کہ میں نے اس سال جلسہ پر اعلان کیا تھا۔جلسہ سالانہ کی دو تقریروں یعنی ”نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر“ اور ” خلافت حقہ اسلامیہ" کا امتحان لیا جائے گا۔یہ دونوں الگ الگ چھپ گئے ہیں۔پس ہر جماعت احمد یہ اپنی اپنی جماعت کے تمام افراد کا جائزہ لے کر حسب ضرورت کتابیں شرکت اسلامیہ سے منگوا لے اور جہاں تک ہو سکے زیادہ سے زیادہ افراد کو امتحان میں شریک کرنے کی کوشش کرے۔پرائیویٹ سکرٹری کو جب مختلف جماعتوں کی طرف سے اطلاع مل جائے گی کہ کتنے آدمی اس جماعت میں امتحان دینا چاہتے ہیں تو اسی تعداد کے پرچے رجسٹری کر کے بھجوادیے جائیں گے۔محترمہ جنرل سکرٹری صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے لجنات کو توجہ دلائی کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقاریر جلسہ سالانہ کا امتحان ہر خواندہ احمدی عورت کو دینا چاہیئے۔سے لجنات نے اس بارہ میں خاص توجہ اور جد وجہد سے کام لیا اور کوشش کی زیادہ سے زیادہ مستورات اس امتحان میں شامل ہوں۔یہ امتحان ۲۱ جولائی کو منعقد ہوا۔جس میں شامل ہونے والوں کی کل تعداد ۶ ۲۷۴ اور کامیاب ہونے والوں کی تعداد ۲۰۶۲ تھی۔جن میں سے ممبرات لجنہ و ناصرات ۳۴۵ تھیں۔کثیر تعداد لجنہ ربوہ کی تھی۔نمایاں کامیابی حاصل کرنے وال بہنوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:۔محترمه محمودہ احمد صاحبہ کراچی محترمہ عائشہ محمودہ صاحبہ کیمبل پور محترمہ مبارکہ شوکت صاحبہ اہلیہ حافظ قدرت اللہ صاحب ناصرات الاحمدیہ میں سے ل الفضل 9 اپریل ۱۹۵۷ء صفحہ ۲ الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۵۷ء صفحہ ۲ اول دوم سوم