تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 457
457 آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیات میں سے تھیں۔۱۸۹۵ء میں احمدی ہوئیں۔بیشمار بچیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔مصائب میں صبر، مہمان نوازی اور غرباء کی حاجت برآری آپ کا شیوہ تھا۔مسجد برلن کے لئے جب چندہ کی تحریک ہوئی تو آپ نے اس تحریک کو عورتوں میں مقبول بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور آپ کے اس کام سے خوش ہو کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تعریفی کلمات سے انہیں نوازا۔سلسلہ کی دوسری تحریکات اور کاموں میں بھی آپ پیش پیش رہتیں۔لوائے احمدیت کے کپڑے کے لئے صحابیات نے مل کر سوت کا تا تو آپ اس میں بھی نہایت ذوق و شوق سے شامل ہوئیں۔آپ کے چاروں فرزند چوہدری غلام مرتضی صاحب، چوہدری غلام بین صاحب محترم صوفی غلام محمد صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب واقف زندگی ہیں۔آپ کی بیٹی زینب بی بی صاحبہ مرحومہ اہلیہ مولوی ابراہیم صاحب خلیل واقف زندگی کی بیوی تھیں۔لے ۲۔محترمہ استانی عائشہ صاحبہ اور سارہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی چراغ دین صاحب کی وفات پر بھی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے قرار داد تعزیت پاس کی (ان ہر دو کا مفصل ذکر دفتر لجنہ اماءاللہ کی بنیا در کھنے والی صحابیات میں آچکا ہے) ۳۔محترمہ علیہ علی صاحبہ :۔محترمہ علیہ علی صاحبہ جولجنہ اماء اللہ امریکہ کی سرگرم مبر تھیں اور جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں اس سال وفات پاگئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔آپ امریکہ کی احمدی جماعتوں کی سیکرٹری مال بھی رہیں اور لجنہ امریکہ کی سکرٹری بھی تھیں۔نہایت جوش ، ذمہ داری اور عمدگی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتی رہیں۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے آپ کی وفات پر قرارداد تعزیت منظور کر کے لجنہ امریکہ کو بھجوائی۔۲۔- سیدہ رفعت جہاں صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ :۔سیدہ رفعت جہاں صاحب صدر جنہ اماءاللہ سیالکوٹ بھی اس سال وفات پا گئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون الفضل ۱۴ نومبر ۱۹۵۶ء ے رجسٹر کار گزاری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ