تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 37
37 ۵۔حلقہ مسلم ٹاؤن صدر محترمہ زینت النساء صاحبہ اہلیہ میاں فیروز الدین صاحب سیکرٹری محترمه سراج بیگم صاحبہ اہلیہ میاں عزیز حسین صاحب ۶۔حلقہ سول لائنز صدر محتر مہ زینب بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر غلام حیدر صاحب سیکرٹری محترمہ اہلیہ صاحبہ شیخ محمد سعید صاحب ے۔حلقہ فیض باغ صدر محتر مہ اہلیہ صاحبہ شیخ عبدالقادر صاحب - حلقه مغلپورہ گنج صدر محتر مہ اہلیہ صاحبه با بوعبدالکریم صاحب صدر اہلیہ صاحبہ قاضی عطاء اللہ صاحب ۹۔حلقہ محمد نگر ۱۰۔حلقہ باغبانپورہ صدر محترمه طالعه بی بی صاحبہ اہلیہ محمد حسین صاحب پہلے پانچ حلقوں کی نگران زینب حسن صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر حسن صاحب تھیں اور پچھلے پانچ حلقوں کی نگران محترمه سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ محمد سعید صاحب۔لجنہ اماءاللہ کی ابتدائی مخلص اور ان تھک کارکنات مندرجہ ذیل رہی ہیں:۔محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ کریم بخش صاحب پہلوان محتر مہ زبیدہ خاتون صاحبہ الیه با بومی محترمہ بشارت خاتون صاحبه (ب- خ -ن) محترمه خدیجہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد الحق صاحب۔محترمه سعیده بیگم صاحبہ اہلیہ میاں وزیر محمد صاحب۔محترمہ اہلیہ صاحبہ شیخ عبدالحمید صاحب محتر مہ اہلیہ صاحبه مرز امحمد صادق صاحب۔محترمہ اہلیہ صاحبہ ملک کرم الہی صاحب۔محترمہ نیاز بی بی صاحبہ اہلیہ صوفی علی محمد صاحب۔محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ عبدالرحیم صاحب والدہ اعجاز الحق صاحب رہی ہیں۔ابتداء میں لجنہ اماءاللہ کی سرگرمیوں کا مرکز دہلی دروازہ اور مزنگ رہا ہے۔زیادہ کام چندہ جمع کرنا۔قرآن مجید سادہ و با ترجمہ پڑھانا اور اُردولکھنا پڑھنا سکھانا تھا۔اس سلسلہ میں محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ وزیر محمد صاحب نے بہت کام کیا۔ہجرت سے قبل چابک سواراں کا کام سب سے نمایاں اور اچھا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ان کے کام پر اظہار خوشنودی فرمایا تھا۔۱۹۴۷ء کا سال سیاسی ہنگاموں سے شروع ہوا۔ہجرت کے بعد لجنہ اماءاللہ کا زیادہ کام مہاجرین کی امداد اور فرقان فورس کے سامان کے سلسلہ میں رہا۔مہاجرین کی امداد کا ذکر کیا جا چکا ہے۔فرقان فورس کے سلسلہ میں خدمات کا ذکر آئندہ صفحات میں آئے گا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ مرکزیہ نے لجنہ لاہور کی تنظیم کی طرف خاص