تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 435
535 خطاب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرموده ۲۱ /اکتوبر ۱۹۵۶ء بر موقعہ سالانہ اجتماع لجنہ اماء الله تشهد وتعو ذاورسورہ فاتحہ کی تلاوت کے فرمایا:۔اسلامی تعلیم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دیگر مذاہب کی نسبت عورت کے درجہ کو بہت بلند کیا گیا ہے۔گو موجودہ زمانہ میں مغربیت کے اثر کے ماتحت خود مسلمانوں نے عورت کے درجہ کو کم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔اور بعض باتوں میں انہوں نے غلط اندازے بھی لگائے۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ پردہ میں عورت کو صحیح تعلیم نہیں دی جاسکتی۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کے اندر ہی دین سیکھا تھا اور پردے کے اندر ہی رہ کر وہ دین کی اتنی ماہر ہوگئی تھیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” تم آدھا دین عائشہ سے سیکھو قرون اولیٰ اور دور حاضر ہر دو میں مسلمان خواتین کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔غرض اسلام میں عورتوں نے ہمیشہ سے قربانیاں کی ہیں اور اب بھی کرتی چلی جاتی ہیں اور اگلے جہان میں بھی اسلام نے عورتوں کے درجہ کو بلند کیا ہے۔چنانچہ اسلام کہتا ہے کہ جو عورت مومن ہو، نماز کی پابند ہو، زکوۃ دیتی ہو ہم اسے جنت میں اونچے مقام پر رکھیں گے۔عیسائی کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کی روح کو تسلیم نہیں کیا گیا۔میں جب یورپ گیا تو مجھ پر بھی ایک عیسائی نے یہی اعتراض کیا۔میں نے جواب دیا کہ یہ الزام بالکل غلط ہے۔اسلام عورت کے حقوق کو کلی طور پر تسلیم کرتا ہے بلکہ اس نے روحانی اور اخروی انعامات میں بھی عورت کو برابر کا شریک قرار دیا ہے۔اس پر اس نے شرمندہ ہوتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ حقیقت یہی ہے کہ اسلام پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ عورت میں روح کا قائل نہیں غلط ہے۔پس اسلام کی تاریخ ہی نہیں دوسرے مذاہب کی تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ عورتوں نے مذہب کی بہت بڑی خدمت ہے اور عورتیں وہ تمام کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں۔وہ تبلیغ بھی کر سکتی ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب لڑائی کا موقع آیا وہ لڑائی بھی کرتی رہیں۔