تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 35
35 رتن باغ لاہور میں نماز جمعہ کا انتظام: لا ہور میں احمدی مہاجرین کی کثیر تعداد آجانے کی وجہ سے مسجد احمد یہ دہلی دروازہ لاہور میں نماز جمعہ کے لئے جگہ کی بہت زیادہ قلت محسوس ہونے لگی۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسح الثانی نے اس کے متعلق اپنے خطبہ جمعہ ۱۷۔اکتوبر میں فرمایا :۔چونکہ مسجد میں جگہ تنگ ہے اور لوگ زیادہ تعداد میں آئے ہیں اس لئے منتظمین کو چاہیئے کہ وہ آئندہ خطبہ کا کسی اور جگہ انتظام کریں جو موجودہ جگہ سے زیادہ فراخ اور وسیع ہو۔مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی شکایت ہے کہ وہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے خطبہ سننے کے لئے نہیں آسکتیں۔یہ یقینی بات ہے کہ جب تک عورتوں کی اصلاح نہ ہو آئندہ نسل کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔اس لئے کسی وسیع جگہ کا جمعہ کے لئے انتظام کرنا چاہیئے تا کہ تمام عورتیں بھی شامل ہو سکیں اور مرد بھی۔اس مسجد میں عورتوں کے لئے جو جگہ ہے اس سے پندرہ میں گناہ زیادہ جگہ صرف عورتوں کے لئے چاہیئے اور مردوں کے لئے بھی موجودہ جگہ سے کم از کم دگنی جگہ ہونی چاہیئے۔پس آئندہ خطبہ جمعہ کا کسی کھلی جگہ انتظام کیا جائے کیونکہ بہت سے لوگ خطبہ سننے سے محروم رہتے ہیں اور یہ مناسب نہیں ہے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کے نتیجہ میں نماز جمعہ رتن باغ کے وسیع میدان میں ہونے لگی جہاں پر عورتوں کے لئے بھی پردہ کے ساتھ وسیع جگہ ہوتی تھی۔لجنہ اماءاللہ کے جلسے: لا ہور آتے ہی حضور نے لجنہ اما اللہ کی تعلیم و تربیت کے لئے پندرہ روزہ جلسے منعقد کرنے کا ارشاد فرمایا چنانچه ۲۳ اکتوبر اور ۹ نومبر کو رتن باغ میں عورتوں کے جلسے ہوئے جن میں حضور نے بنفسِ نفیس تشریف لا کر مستورات سے خطاب فرمایا اور الہی نشانات کے ماتحت ہجرت پر روشنی ڈالی اور پھر لاہور کی مستورات کو یہ نصیحت فرمائی کہ ہم لوگ آپ کے پاس آئے ہیں تو فائدہ اٹھاؤ اور دینی تعلیم سکھو سے اس کے علاوہ ۲۳ نومبر اور ۲۱ دسمبر کو بھی لجنہ اماءاللہ کے جلسے منعقد ہوئے جن میں حضرت سیّدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ مرکزیہ نے لجنہ لاہور کو بیدار کرنے کے لئے تقاریر فرمائیں۔الفضل ۳۰ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحه ۴ کالم نمبر ۲ ۲ افسوس یہ تقاریر محفوظ نہیں رہیں۔