تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 34
34 == سیالکوٹ : محترمہ سیدہ فضلیت صاحبہ سابق صدر لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ تحریر فرماتی ہیں:۔۱۹۴۷ء میں جب پارٹیشن ہوئی تو یہاں پر لجنہ کی میرات اور احمد یہ گرلز ہائی سکول کی طالبات نے بہت کام کیا۔سب سے زیادہ احمدی لڑکیاں ہی تھیں جو کیمپوں میں کام کرتی تھیں۔“ ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بہنوں نے بھی مہاجرین کی امداد اور آبادکاری کے کاموں میں نمایاں حصہ لیا:۔ا۔فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ چو ہدری محمد ابراہیم صاحب سماعیلہ ضلع گجرات 66 ۲۔بیگم شفیع صاحبہ مرحومہ ایڈیٹر رسالہ دستکاری لاہور۔آپ نے آبادکاری کے علاوہ مشرقی پنجاب سے اغواہ شدہ لڑکیاں نکالنے کے سلسلہ میں بھی مسلم لیگ کی خواتین کے ساتھ مل کر کام کیا۔نجم النساء صاحبہ کوٹ فرزند علی چک ۲۵ اضلع رحیم یار خان۔-۴- حمیده خانم صاحبہ بیگم شیخ مسعود احمد صاحب رشید مرحوم لا ہور۔۵۔صغری فاطمہ صاحبہ بہاولنگر۔لا ہور میں دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا قیام: حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ (جنرل سیکرٹری لجنہ مرکز یہ ) نے لاہور پہنچ کر اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اب لاہور رہ کر موجودہ نازک اور مشکل دور میں لجنہ کا کام شروع کیا جائے۔چنانچہ آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے درخواست کی کہ محترمه سراج بی صاحبہ کلرک دفتر لجنہ کو قادیان سے بھجوا دیا جائے۔چنانچہ سراج بی صاحبہ اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ استمبر ۱۹۴۷ء کو لاہور آگئیں۔وہ اپنے ہمراہ صرف دو تین رجسٹر ہی لا سکیں۔آتے ہی پر چی خوراک اور تقسیم لحاف و برتن وغیرہ کا کام شروع کر دیا۔اس کام کا بوجھ کچھ ہلکا ہونے پر لجنہ کے چندہ اور رپورٹوں کا کام شروع کر دیا گیا۔الفضل کے ذریعہ بھی لاہور میں لجنہ کے مرکزی دفتر کے قیام کا اعلان کیا گیا۔یہ اور اس طرح لاہور میں لجنہ مرکزیہ کے کام کا آغاز ہوا۔ا الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ء صفحه ۶