تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 416
416 صاحبہ موصوفہ انسپکٹریس کی حیثیت سے مختلف مقامات کی لجنات کے معائنہ اور دورہ کے لئے تشریف لے جانے لگیں۔اپنے دورہ میں وہ نئی بجنات قائم کرتی تھیں۔لے ضلع گجرات میں نئی لجنات کا قیام:۔۳۰ ستمبر کو محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے بحیثیت انسپکٹریس لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ضلع گجرات کا دورہ کیا۔آپ بارہ مقامات پر گئیں اور مندرجہ ذیل سات بجنات قائم کیں۔کنجاہ ، چوکنانوالی، گولیکی ، کالراں کلاں ، سدو کی ، جس کی ہوک کلاں سے محترمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ ۲۲ نومبر ۱۹۵۶ء کو کراچی کی لجنہ کا دورہ کرنے اور ان کے پہلے سالانہ اجتماع میں شمولیت کی غرض سے بطور مرکزی نمائندہ تشریف لے گئیں۔اس کے علاوہ سرگودھا کے بعض دیہات کا بھی آپ نے دورہ کیا۔سے فتنه منافقین اور لبنات اماءاللہ کی قراردادیں:۔ماہ جولائی کے آخری ایام میں جماعت احمدیہ میں منافقین کا ایک فتنہ ظاہر ہوا جس کے سرغنہ مولوی عبدالوہاب صاحب عمر اور مولوی عبد المنان صاحب عمر (پسران حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ) تھے اور انہوں نے بطور آلہ کار ایک شخص اللہ رکھا کو آگے کیا ہوا تھا جو پہلے قادیان میں رہتا تھا اور وہاں درویشوں کے خلاف فتنہ پیدا کرتارہتا تھا۔حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۲۳ / جولائی ۱۹۵۶ء کو اس سلسلے میں جماعت کے نام ایک اہم پیغام تحریر فرمایا۔جس میں حضور نے اس فتنہ کا انکشاف فرمایا اور جماعت کو ان لوگوں بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس اعلان کے شائع ہونے پر تمام جماعتوں نے اور ذیلی تنظیموں نے خلافت کے ساتھ اور بالخصوص حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گہری محبت اور والہانہ عقیدت کا اور منافقین سے انتہائی بیزاری اور نفرت کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اور لجنہ اماءاللہ ربوہ نے فوری طور پر مندرجہ ذیل قرار دادیں بذریعہ تار حضور کو کوہ مری میں بھجوائیں جہاں حضور اُن دنوں تشریف رکھتے تھے۔ل ۲۴ ۳۰ رجسٹر کا رروائی لجنہ مرکز یہ