تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 414 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 414

414 میں اپنی زندگی دین کے لئے وقف کروں گی۔لیکن اس نے پہل کرلی۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ اس کی شادی ایک غیر ملکی واقف زندگی نوجوان سے ہوگئی۔اب دیکھو، نیک نیتی کیسے اچھے پھل لاتی ہے۔اور پھر ایک دن ایک اور لڑکی روتی ہوئی میرے پاس آئی اور اس نے کہا میں کسی واقف زندگی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے والد اس میں روک بنتے ہیں اور وہ میری شادی واقفِ زندگی سے نہیں کرنا چاہتے۔میں حیران ہوا کہ اس کے اندر کس قسم کا اخلاص پایا جاتا ہے۔میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب سے کہا کہ وہ اس کے والد کو سمجھا ئیں۔آخر چند دنوں کے بعد وہ پھر آئی اور اس نے کہا میرا والد ایک واقف زندگی سے میری شادی کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔چنانچہ اس کی شادی ہوگئی۔شادی کے بعد وہ پھر ایک دن روتی ہوئی میری پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرا باپ کہتا ہے کہ اگر تو اپنے خاوند کے ساتھ ملک سے باہر گئی تو میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا۔میں نے کہا۔میں بیمار ہوں تمہارے رونے کی وجہ سے میرادل گھبراتا ہے۔اس لئے تم خود ہی کچھ کرو اور اپنے والد کو کسی نہ کسی طرح راضی کرلو۔بعد میں ، میں نے پھر ابوالعطاء صاحب سے کہا اور انہوں نے کوشش کر کے سمجھوتہ کرا دیا۔اب دیکھو! وقف زندگی ایک جہاد ہے اور جہاد کا عورتوں کو براہ راست حکم نہیں۔واقف زندگی نوجوانوں کو غیر ممالک میں جانا پڑتا ہے۔اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں اس لئے اس قسم کی قربانی کا انہیں براہ راست حکم نہیں لیکن جب لڑکیوں میں دین کی خدمت کا جوش پیدا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ انکے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے۔کوہ مری میں لجنہ کے عہد یداران کا انتخاب :۔ماہ مئی میں حضرت سیدہ ائیم ناصر احمد صاحب حرم اول حضرت خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ حضور کے ہمراہ کوہ مری میں تشریف فرما تھیں۔ہم رمئی کو خیبر لاج مری میں ان کی زیر صدارت مری کی ا الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۵۶، صفحه ۳ ۴۰ کالم ۳-۴