تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 33 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 33

33 خواتین کی ضرورت ہوتی وہ آپ کو مطلع کرتی اور آپ ممبرات لجنہ اماءاللہ کو وہاں لیکر پہنچ جاتی تھیں اور بڑی خوش اسلوبی سے اس کام کو سرانجام دیتی تھیں۔کھاریاں ضلع گجرات : محتر مہ ہاجرہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ کھاریاں (اہلیہ چوہدری فضل الہی صاحب مرحوم) نے مہاجرین کی مدد کی اور آبادکاری کے سلسلے میں نہایت قابل قدر کام کیا۔آنے والے مہاجرین کو اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ان کے کھانے پینے پہنے اور رہائش کا انتظام کیا اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا۔حتی کہ اپنے گھر کی سوائے اشد ضروری چیزوں کے باقی تمام کا تمام سامان مہاجرین کو دے دیا۔تین غیر مسلموں کے مکان حاصل کر کے ان میں مہاجرین کو آباد کیا۔کثیر تعداد میں کپڑے اور بستر جمع کر کے دوٹرکوں پر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ لاہور کو بھجوائے۔گھسیٹ پورہ ضلع لاسکیور محتر مہ نذیر بیگم صاحبہ اہلیہ چو ہدری محمد طفیل صاحب سابق صدر لجنہ گھسیٹ پور ضلع لائل پورتحریر فرماتی ہیں:۔قیام پاکستان کے بعد ہم ہجرت کر کے ضلع لائل پور کے ایک گاؤں چک نمبر 8 گھسیٹ 19 R۔B پورہ میں پہلے احمدی خاندان کی حیثیت سے آباد ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اس تحریک کے ماتحت که احمدی مهاجرین اکٹھے مختلف مقامات پر آباد ہونے کی کوشش کریں۔میں نے اپنے خاوند کو تحریک کی کہ اس گاؤں میں زیادہ سے زیادہ احمدی آبا د کر نے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ان کی کوششوں سے پہلے اپنے تمام رشتہ داروں کو یہاں بلا کر آباد کیا۔پھر ہم رتن باغ لاہور پہنچے اور زمیندار احمدی مہاجرین سے رابطہ پیدا کر کے انہیں گھسیٹ پورہ پہنچنے کی تحریک کی اور جب وہ تیار ہو گئے تو افسر ان سے مل کر ۸۰ - ۹۰ احمدی گھرانوں کو زمین الاٹ کرا کر یہاں آباد کرنے کا انتظام کیا۔اس طرح یہاں احمدی آبادی کی اکثریت ہو گئی۔چنانچہ اب یہاں احمدی آبادی خدا کے فضل سے ایک ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔الحمداللہ“