تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 393 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 393

393 وہ بھی ایسی کتب جمع کریں اور بلا امتیاز احمدی و غیر احمدی جو بچے بھی کتب خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں انہیں یہ کتب مفت دینے کا اہتمام کریں۔اس تحریک کی تعمیل میں متعدد لجنات نے اس کا اہتمام کیا لجنہ نیروبی بیرونی لجنات لجنہ نیروبی بہت پرانی لجنات میں سے ہے۔اس کے قیام کی صحیح تاریخ یا سال کا علم نہیں ہو سکا۔تاہم یہ امر ثابت ہے کہ ۱۹۲۹ء میں یہ لجنہ قائم تھی۔اس کی ابتدائی صدر سردار بیگم صاحبہ اہلیہ محمد حسین صاحب بٹ مرحوم اور سکرٹری زبیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ عبدالغنی صاحب اور سکرٹری مال محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ عبد الرحمن صاحب قریشی تھیں۔۳۰ - ۱۹۲۹ء میں سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم نے وہاں مستورات میں قرآن مجید کا درس (ہفتہ میں ایک بار ) دینا شروع کیا اور آپ کے بعد شیخ مبارک احمد صاحب نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔یہ درس لجنہ میں بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔سیدمحمود اللہ شاہ صاحب مرحوم نے وہاں ایک لائبریری حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کے نام سے قائم کی جس میں انہوں نے بہت سی اپنی کتب بھی دیں۔بعد میں لجنہ نے چندہ اور کوشش کر کے اسے بہت ترقی اور وسعت دی۔۳۶ - ۱۹۳۵ء میں مقامی جماعت نے سواحیلی زبان میں ایک رسالہ نکالنے کی ضرورت محسوس کی۔اس کے اخراجات مقامی لجنہ نے اپنے ذمہ لئے۔چنانچہ عرصہ تک یہ اخراجات لجنہ ادا کرتی رہی۔اس کے علاوہ ایک مبلغ کی اہلیہ کے سفر جہاز کا سارا خرچ لجنہ نے ادا کیا۔ایک افریقن طالب علم کو لجنہ نے اپنے خرچ پر دینی تعلم کے حصول کے لئے ربوہ بھجوایا۔لجنہ کی ایک مخلص ممبر مرجان اہلیہ سید معراج الدین صاحب نے ممباسہ کی احمدیہ مسجد کے لئے ساٹھ ہزار شلنگ دیئے۔۱۹۴۷ء کے پر آشوب ایام میں مرکز سلسلہ کی حفاظت کی خاطر لجنہ نیروبی کی اکثر مخلص ممبرات نے چندہ کے علاوہ زیور بھی پیش کر دیا۔سواحیلی زبان میں قرآن مجید کی اشاعت کے لئے بھی مستورات نے بڑھ چڑھ کر مصباح دسمبر ۱۹۵۵ء صفحه ۷