تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 392
392 سینکڑوں کی تعداد میں کپڑے بھجوائے۔ان کے علاوہ لجنہ لائل پور، سیالکوٹ ، سرگودھا، محمد آباد اسٹیٹ وغیرہ نے بھی نقدی اور کپڑوں کی صورت میں سیلاب زدگان کی مدد میں حصہ لیا۔لے لجنہ اماءاللہ کا عہد نامہ:۔امسال ۱۴؍ فروری کو مجلس عاملہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا سال رواں کا دوسرا اجلاس زیر صدارت حضرت سیّدہ ام ناصر ضمنعقد ہوا۔متفقہ طور پر لجنہ اماءاللہ کا یہ عہد نامہ منظور ہوا۔۔پر اشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔میں اقرار کرتی ہوں کہ اپنے مذہب اور قوم کی خاطر اپنی جان و مال ، وقت اور اولا د کو قربان کرنے کے لئے تیار رہوں گی۔نیز سچائی پر ہمیشہ قائم رہوں گی۔۱۹۵۶ء میں جب فتنہ منافقین ظاہر ہوا اور انہوں نے خلافت کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کیں تو اس عہد نامہ میں مندرجہ ذیل فقرہ کا اضافہ کر دیا گیا۔اور خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہوں گی۔“ بے پردگی کے خلاف جدو جہد :۔۔جلسه سالانه ۱۹۵۴ء پر حضور نے بے پردگی دور کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔حضور کے اس ارشاد کی تعمیل خاص جد و جہد سے کی گئی۔تمام بیرونی لجنات کو خطوط اور اعلانات کے ذریعہ سے توجہ دلائی گئی۔لجنہ اماءاللہ ربوہ ، پرنسپل صاحبہ جامعہ نصرت ، ہیڈ مسٹر لیں صاحبہ نصرت گرلز ہائی سکول کو بھی اس سلسلے میں بار بار توجہ دلائی گئی۔سے غرباء کے لئے کتب :- لجنہ کے شعبہ خدمت خلق نے غریب بچوں کے لئے کورس کی کتابیں جمع کرنے کا اہتمام کیا اور نیا تعلیمی سال شروع ہونے پر وہ مستحق بچوں میں تقسیم کر دیں۔شعبہ ہذا نے بیرونی لجنات کو تحریک کی ل الفضل ۳ نومبر ۱۹۵۵ء صفحه ا سے مصباح جولائی ۱۹۵۸ء صفحہ ۳۷ مصباح ماه فروری ۱۹۵۵ء صفحه ۲