تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 382 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 382

382 آپ کا نام صغری بیگم تھا اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حرم ہونے کی حیثیت سے جماعت میں آپ ”اماں جی کے لقب سے معروف تھیں۔آپ حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کی صاحبزادی تھیں۔یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اپنی فراست سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعوئی سے قبل ہی شناخت کر لیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا تھا۔ہم مریضوں کی ہے تمہی یہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے آپ کو خود سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا نورالدین خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عظیم شخصیت کے لئے منتخب فرمایا تھا۔حضرت خلیفہ اول کی دوسری شادی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اواخر ۱۸۸۷ء سے کوشش فرمارہے تھے مگرموزوں رشتہ کا فیصلہ اوائل ۱۸۸۸ء میں جا کر ہوا۔اور شادی مارچ ۱۸۸۹ء میں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی دیگر احباب کے ہمراہ بارات میں شامل ہوکر لدھیانہ تشریف لے گئے اے شادی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول کے نام ایک خط میں لدھیانہ سے تحریر فرمایا:۔نی بیوی کی دلجوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے۔مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اول درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں۔اور اللہ جل شانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل و کرم سے ان سے آپ کی صافی محبت و تعشق پیدا کر دے کہ سب امور اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔اب اس نکاح سے گویا آپ کی نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔اور چونکہ انسان ہمیشہ کے لئے دنیا میں نہیں آیا اس لئے نسلی برکتوں کے ظہور کے لئے اب اسی پیوند پر امیدیں ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے لئے یہ بہت مبارک کرے۔میں نے اس محلہ میں خاص صاحب اسرار واقف لوگوں سے اس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے کہ بالطبع صالحہ، عفیفہ وجامع فضائل محمودہ ہے۔اس کی تربیت و تعلیم کے لئے بھی توجہ رکھیں اور آپ پڑھایا کریں کہ اس کی استعداد میں نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہیں۔اور اللہ جل شانہ کا نہایت فضل اور احسان ہے کہ یہ جوڑا بہم پہنچایا ورنہ اس قحط الرجال میں ایسا اتفاق محالات کی طرح ہے۔له تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحه ۱۲۴ و حیات نور از مولانا شیخ عبدالقادر صاحب صفحه ۱۵۱ حیات نور مصنفہ شیخ عبد القادر صاحب صفحه ۱۵۳