تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 381
381 میں آپ کو خدمت کی جو توفیق ملی وہ اپنی کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اور بھی قابل صد فخر ہے۔سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز ہم سب کے روحانی رہنما ہیں اور حضور کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا ہم سب کا مشتر کہ فرض ہے۔لیکن دوسری تمام مشتر کہ ذمہ داریوں کی طرح یہ ذمہ داری بھی نمائندگی کے ذریعہ پوری ہوتی ہے۔اس لحاظ سے آپ گو یا ہماری نمائندہ تھیں اور اس کامیاب نمائندگی پر ہم آپ کی تہ دل سے مشکور ہیں۔اور آج آپ کی خدمت میں دلی مبارکباد پیش کرنے کے لئے یہاں حاضر ہوئی ہیں۔ہم دعا کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خدمت امام کا زیادہ سے زیادہ موقع عطا کرے اور اس ذریعہ سے خدمت دین کی مختلف راہیں آپ کے لئے آسان ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل آپ کے ساتھ ہو اور اس کی رحمتیں آپ کا دامن تھا میں۔ہم سب بھی ایسی ہی دعا کی محتاج ہیں اور آپ سے اس کے لئے درخواست کرتی ہیں۔اپنے ایڈریس کو ختم کرنے سے پہلے سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ اور سیدہ ام متین صاحبہ جنرل سکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا خاص طور پر شکر یہ ادا کرتی ہیں کیونکہ آپ دونوں کی سرکردگی میں یہ انجمن ایک مضبوط تنظیم کے ساتھ ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔اور اب یورپ کے ممالک میں آپ کی مساعی نے عورتوں کی اس انجمن کو اور زیادہ تقویت بہم پہنچائی ہے۔فجزاكم الله احسن الجزاء وايد كما بنور من عنده۔اللهم آمين ایڈریس پیش ہونے کے بعد سیدہ حضرت مریم صدیقہ صاحبہ نے صدر صاحبہ اور اپنی طرف سے شکریہ ادا کیا اور سفر یورپ کے مختصر حالات بتاتے ہوئے بیرونی ممالک کو جانے والی خواتین کو قیمتی نصائح فرمائیں۔دعا کے بعد یہ تقریب سعید ختم ہوئی۔سعید ہوئی۔حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفتہ اسی الاول کی وفات: ت:۔۱۹۵۵ء میں جماعت کے کئی بزرگ داغ مفارقت دے گئے۔ان میں سر فہرست حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اسح الاول رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے۔جو ر اور ۷/ اگست ۱۹۵۵ء کی درمیانی شب کو قریباً ساڑھے بارہ بجے ۸۳ سال کی عمر میں رحلت فرما گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون ہے الفضل ۹ راگست ۱۹۵۵ء صفحه ا مصباح نومبر ۱۹۵۵ء صفحه ۳۵