تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 380 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 380

380 وو ” جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا پیارے امام ! ہم سب حضور کی روحانی بیٹیاں ہیں اور ہمارا ذرہ ذرہ آپ کے ان احسانات کا ممنون ومشکور ہے جو آپ نے طبقہ اناث پر فرمائے۔ہم میں کوئی تنظیم نہ تھی۔آپ نے ہمیں لجنہ اماءاللہ جیسی ظیم تنظیم عطا فرمائی۔ہم زیور تعلیم سے محروم تھیں آپ نے اس زیور سے آراستہ ہونے کے سامان ہمارے لئے مہیا فرمائے۔دینی علوم بھی ہم نے سیکھے اور دنیوی علوم سے بھی بہرہ ور ہونے کا ہمیں موقع ملا۔اور حضور کی توجہ خاص نے ہمارے روحانی مقام کو اتنا بلند کر دیا کہ یہ نوشتہ تقدیر بن گیا کہ عورتوں کی اصلاح کے بغیر قوموں کی اصلاح ممکن نہیں۔ہمارے پیارے ہادی! ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے اس سفر کو کا میاب بنایا اور عیسائیت کے مرکز میں اسلام کی فتح کی بنیادیں حضور کے ہاتھوں استوار ہوئیں۔ہم اس کے عظیم فضل کا دوبارہ شکر یہ ادا کرتے ہوئے حضور کی خدمت میں پر خلوص جذبات کے ساتھ مبارکباد عرض کرتی ہیں۔درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خوشنودی کی راہوں پر چلائے اور حضور کی راہنمائی میں دن دگنی اور رات چوگنی جدو جہد کی توفیق دے کیونکہ جد و جہد ہی زندگی کا نشان راہ ہے۔“ بِسْمِ اللهِ الرَّحمن الرحيم ) نحمده ونصلى على رسوله الكريم ایڈریس بخدمت خواتین مبارکہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل واحسان ہے کہ اس نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت میں سے ہونے کا شرف عطا فرمایا۔پھر ہمارے امام سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز سے آپ کا قریبی تعلق ہے۔یعنی سیدہ ام ناصر احمد صاحبه، سیده ام وسیم احمد صاحبه، سیده ام امتہ المتین صاحبہ اور سیدہ مہر آپا صاحبہ حضور کی حرم محترمات ہیں۔سیدہ آپا طیبہ بیگم آپ کی بہو اور مکرم جناب صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کی بیگم ہیں۔قرابت داری کا یہ شرف خداوند تعالیٰ کی ایک خاص نعمت ہے۔اور اس پر اس کا جتنا بھی شکر یہ ادا کیا جائے کم ہے۔پھر اس قرب تعلق کی بناء پر آپ کو ہمارے پیارے امام کی خدمت کا ہم سے زیادہ موقع میسر آتا ہے۔اور اب سفر یورپ کے دوران