تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 376
376 مدیرہ مصباح مکرمہ امۃ اللہ خورشید صاحبہ سیکرٹری نصرت انڈسٹریل سکول مکرمہ کلثوم باجوہ صاحبہ سیکرٹری شعبہ خدمت خلق مکرمہ بیگم صاحبہ مرزا مبارک احمد صاحب سیکرٹری تعلیم وتربیت مکرمہ بیگم صاحبہ مرزا منور احمد صاحب نائب سیکرٹری تعلیم وتربیت مکرمہ صفیہ ثاقب صاحبہ سیکرٹری ناصرات الاحمدیہ خاکسارامة اللطيف سیکرٹری بیرونی ممالک مکرمہ امۃ الرحیم عطیہ صاحبہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی تشویشناک علالت: ۲۶ فروری ۱۹۵۵ء کو ہفتہ کے دن بعد نماز مغرب پونے سات بجے کے قریب حضور کے بائیں جانب اعصابی بیماری کا شدید حملہ ہوا۔اسی وقت ربوہ کے تمام محلہ جات میں صدقات دیئے گئے اور رات بھر درد دل سے اجتماعی دعائیں کی گئیں۔بیرونی جماعتوں کو ٹیلیفون اور تاروں کے ذریعے حضور کی بیماری کی اطلاع دی گئی۔چنانچہ پوری جماعت میں اجتماعی دعاؤں اور صدقات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔لجنہ مرکز یہ اور بیرونی لجنات نے بھی اس میں حصہ لیا۔اور اپنی جان سے زیادہ عزیز اور محبوب امام کے لئے بڑے سوز اور رقت کے ساتھ دعائیں کیں اور صدقات دیئے سلا اس بیماری کی وجہ سے لجنہ مرکزیہ کی جنرل سکرٹری حضرت مریم صدیقہ مدظلہ العالی بھی حضور کی خدمت اور تیمارداری میں مصروف ہو گئیں۔اور یہ شب و روز خدمت اور مصروفیت حضور کے وصال تک یعنی دس سال تک جاری رہی۔حق یہ ہے کہ آپ نے حضور اقدس کی خدمت اور تیمارداری کا پورا حق ادا کیا۔علالت کے دوران حضور جو پیغامات یا مضامین اور اعلانات اور خطوط کے جواب وغیرہ دیتے انہیں عموماً حضرت سیدہ محترمہ ہی سے لکھواتے۔گویا ایک گونہ پرائیویٹ سکرٹری کے فرائض بھی آپ ہی ادا کرتی تھیں اور پھر ساتھ ہی لجنہ اماءاللہ کی جنرل سکرٹری کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریق سے ادا کرتی رہیں۔فجز اھا اللہ احسن الجزاء۔ا الفضل ۲۷ فروری ۱۹۵۵ء صفحها