تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 366
366 لاہور میں سیلاب زدگان کی مدد:۔اکتوبر میں لا ہور بھی سیلاب کی لپیٹ میں آگیا۔کئی نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔متعدد مکانات گر گئے اور لوگ بے گھر ہو گئے۔اس موقع پر لاہور کی لجنہ کوبھی کام کرنے کا موقع ملا۔چنانچہ جب محترم امیر صاحب جماعت لاہور نے خدام کے امدادی کاموں میں مدد کے طور پر عطایا کی تحریک کی تو لجنہ لا ہور نے فوری طور پر ۱۵ اروپے اسی وقت پیش کر دیئے۔حلقہ دھرم پورہ کی ممبرات نے دو سو افراد کا کھانا پکا کر تقسیم کروایا۔لجنہ لاہور کی جنرل سیکرٹری محترمہ زینب حسن صاحبه، اقبال بیگم صاحبہ سیکرٹری خدمت خلق اور والدہ اختر محمود صاحبہ نے مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور کے عہدیداروں کے ہمراہ وارث روڈ، کشمیر روڈ ، کمہار پورہ کے علاقوں میں جا کر خدام کے امدادی کاموں کا جائزہ لیا اور ایک سوستر نا دار عورتوں میں کپڑے تقسیم کئے۔اے مبلغین کی بیگمات کے اعزاز میں تقاریب :۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے مبلغین کرام کی بیگمات کے اعزاز میں مندرجہ ذیل تقاریب منعقد کی گئیں:۔۱ ۱۰ر اپریل ۱۹۵۴ء کو لجنہ مرکزیہ نے لجنہ ہال میں اہلیہ صاحبہ سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا ( جوانڈونیشین ہیں) اور محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ سید ولی اللہ شاہ صاحب مبلغ مشرقی افریقہ کے اعزاز میں دعوت عصرانہ اور ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس محتر مہامۃ الرشید شوکت صاحبہ نے پڑھا۔۲- ۱۹ دسمبر ۱۹۵۴ء کو لجنہ مرکز یہ اور لجنہ ربوہ نے جرمن نومسلم مسٹر عبدالشکور صاحب کنزے کی اہلیہ محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ اور مسٹر رشید احمد امریکن نو مسلم کی اہلیہ محترمہ سارہ بیگم صاحبہ کے اعزاز میں ٹی پارٹی دی۔اور ایڈریس پیش کیا۔محترمہ بیگم صاحبہ مرزار فیع احمد صاحب مبلغ انڈونیشیا کو لجنہ مرکز یہ ربوہ نے تحفہ پیش کیا۔ان کی اچانک روانگی کی وجہ سے دعوت اور ایڈریس پیش نہ کیا جاسکا۔الفضل ۲۶ اکتوبر ۱۹۵۴ء صفحه ا مصباح اپریل، مئی ۱۹۵۴ء صفحه ۶۸