تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 358
358 ۱۹۵۴ء حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قاتلانہ حملہ اور لجنات کی طرف سے مذمت کی قراردادیں سیلاب زدگان کی امداد لجنہ اماء اللہ کا قافلہ ۱۹۵۴ء میں اپنی زندگی کے بتیسویں سال میں داخل ہوتا ہے۔قوموں اور مختلف تنظیموں کی زندگی قربانی اور ایثار کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔اس کے بغیر قومی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بھی مختلف میدانوں میں لجنہ اماءاللہ کوخدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی خدمت کے لئے قربانی کرنے کے مواقع میسر آئے۔اس سال کا انتہائی المناک واقعہ سیدنا مصلح الموعود حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ پر ایک بد بخت شقی القلب کی طرف سے قاتلانہ حملہ کا دلخراش حادثہ ہے جس نے مومنین کے قلوب کو ہلا کر رکھ دیا۔اس موقع پر لجنات اماءاللہ نے بھی اپنے دلی رنج و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔صدقات دیئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آور کو قرار واقعی سزا دے کر عدل وانصاف کے تقاضا کو پورا کرے۔عہدیداران ۱۹۵۴ء اس سال کے لئے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کے حسب ذیل عہدیداران کا تقرر عمل میں آیا :۔ا۔صدر ۲۔نائب صدر حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ ( بیگم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب)