تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 28
28 گئے اور ہمیں بھی خدا نے اس طرح دیا کہ ہمیں کبھی بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم کوئی اور تد بیرایسی اختیار کریں جس سے ہماری روٹی کا انتظام ہو۔میں جب تک لا ہور نہیں پہنچا ہمارے خاندان کے لئے لنگر سے کھانا آتا رہا تھا مگر جہاں تک مجھے علم ہے اس کی بھی لنگر کو قیمت ادا کر دی گئی تھی اور اس کے بعد اپنے خاندان کے دوسو افراد کا بوجھ اُٹھایا۔حالانکہ اس وقت ماہوار خرچ کھانے کا کئی ہزار روپیہ تھا۔غرض خدا دیتا چلا گیا اور میں خرچ کرتا چلا گیا۔ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں حضرت مصلح موعود کی رُوح پر جنہوں نے ان نازک ایام میں نہ صرف اپنے خاندان کے سب افراد کی رہائش اور خوردونوش کا انتظام فرمایا بلکہ اللہ تعالے کی دی ہوئی توفیق سے تنگی اور بے سروسامانی کی حالت کے باوجود آنے والی مہاجر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی رہائش اور قیام و طعام کے انتظام میں کوئی بھی کسر اٹھانہ رکھی۔اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا نے اس کام میں دن رات حضور کا ہاتھ بٹایا اور اس طرح ہمارے لئے ایک قابل تقلید نمونہ قائم کیا۔حضور نے یکم ستمبر ۱۹۴۷ء کو یعنی ہجرت کے دوسرے ہی روز جودھامل بلڈنگ کے صحن میں ایک فوری میٹنگ بلائی جس میں صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی بنیا د رکھی۔اس میں دیگر امور کے علاوہ حضور نے یہ ہدایات بھی دیں کہ آنے والے مہاجر خاندانوں کی رہائش کے لئے رتن باغ کے گردو نواح میں عمارتیں الاٹ کرانے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ حضور کی زیر ہدایت رتن باغ کے علاوہ اس سے ملحقہ تین عمارتیں (۱) جو دھامل بلڈنگ (۲) جسونت بلڈنگ (۳) سیمنٹ بلڈنگ جماعت کے نام الاٹ کرالی گئیں اور ان میں قادیان سے آنے والے مہاجر خاندانوں کو رکھا گیا جن کا معتد بہ حصہ عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھا۔ان عما رات میں بسنے والے خاندانوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا کہ:۔جو چار عمارتیں بشمول رتن باغ ہمارے قبضہ میں ہیں ان میں ۱۵۲ (ایک سو باون ) خاندان آباد ہیں اور کل تعداد ۱ ۸۰ ( آٹھ سو ایک ) ہے۔اور یہ خاندان فرضی نہیں بلکہ ایسے خاندان ہیں جو قادیان میں اپنے علیحدہ علیحدہ مکانات اور مستقل انتظام رہائش رکھتے تھے اور ابھی ان اعداد وشمار میں ا الفضل ۶۔اکتوبر ۱۹۴۹ء صفحریم