تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 346 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 346

346 طرح مردوں میں حضرت میر محمد الحق رضی اللہ عنہ کو اپنے علم و فضل کے لحاظ سے ایک ممتاز اور مخصوص مقام حاصل تھا بالکل اسی طرح آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت ممانی جان مرحومہ کو بھی احمدی مستورات میں دینی مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے اور اپنے تجر علمی کے لحاظ سے ایک یگانہ حیثیت حاصل تھی۔با قاعدگی اور سلیقہ:۔حضرت ممدوحہ کے ہر کام میں ایک با قاعدگی او سلیقہ بھی نمایاں نظر آتا تھا۔آمد وخرچ کا با قاعدہ ریکارڈ رکھتیں خواہ گھر کا خرچ ہو یا چندہ کا حساب۔آئندہ کرنے والے کام ایک نوٹ بک میں درج فرماتیں اور اسے حفاظت سے رکھتیں۔غرض ہر کام میں باقاعدگی اور سلیقے کو پسند فرماتیں۔تین سال مجھے آپ کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کے ساتھ کام کرنے سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔آپ نے میرے کام پر متعد دمرت خوشی کا اظہا فرمایا اوردعا میں میں لے لجنہ اماءاللہ کراچی سے حضرت اسح موعود کا اہم خطاب :۔۲۲ ظہور (اگست) کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانی المصلح الموعود نے جو ان دنوں کراچی تشریف فرما تھے احمد یہ ہال میں لجنہ اماءاللہ کراچی سے ایک اہم خطاب فرمایا جس میں حضور نے احمدیت کے خلاف مخالفت کے طوفان کا ذکر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ احمدی مردوں کے دوش بدوش احمدی خواتین کو بھی احمدیت کے متعلق پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔حضور نے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ آج کل ظاہری طور پر سوسائٹی میں عورتوں کا اثر بہت بڑھ گیا ہے۔احمدی مستورات کو چاہیے کہ اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔اپنے اپنے حلقہ میں دوسری خواتین کے ساتھ تعلقات بڑھا کر اُن غلط فہمیوں کو دور کرنے کی پوری کوشش کریں جو احمدیت کے خلاف بکثرت پھیلائی گئی ہیں۔اگر احمدی خواتین اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کریں تو اُس کا بہت خوشگوار اثر ظاہر ہو سکتا ہے۔ملنے جلنے سے اور میل جول بڑھانے سے غیر احمدی عورتوں کو بخوبی علم ہو جائے گا کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی امت میں سے ہی ہیں۔ان کا کلمہ ،نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وہی ا بروز نامه اصلح کراچی ۱۳ ستمبر ۱۹۵۳ء