تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 342
342 یتیم غریب بچوں کے کپڑے سلوانے ، رضائیاں تیار کروانے اور ان کی تعلیم اور تربیت اور خبر گیری میں آپ کا نمایاں حصہ رہا۔علمی قابلیت :۔جس زمانہ میں آپ نے اعلیٰ عربی کی تعلیم حاصل کی یہ وہ زمانہ تھا جبہ اعلی تعلیم یافتہ خواتین خال خال پائی جاتی تھیں۔عربی ، فارسی اور علم حدیث میں خاصی دسترس رکھتی تھیں۔شعر بھی کہ لیتی تھیں۔تقریر کرنے کے علاوہ تحریر بھی بہت اچھی تھی۔آپ میں یہ خصوصیت تھی کہ مختصر الفاظ میں خاصا مضمون بیان کر دیتی تھیں۔بڑی کثرت سے خواتین اور بچیوں کو آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا۔آخری علالت اور وفات :۔حضرت سیدہ ام داؤ د مرحومہ ایک لمبے عرصہ سے بیمار چلی آتی تھیں بالآخر آپ کے گلے کی نالی بند ہوگئی اور معدہ میں خوراک جانی رک گئی۔پھر معدہ میں نلکی کے ذریعہ خوراک پہنچائی جاتی رہی مگر آپ کی طبیعت دن بدن گرتی ہی چلی گئی اور یہی تکلیف بالآخر جان لیوا ثابت ہوئی۔ستمبر کو لاہور میں آپ نے وفات پائی۔اسی روز آپ کی نعش ربوہ لائی گئی۔اگلے روز ۹ ستمبر کو آٹھ بجے صبح حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثرت سے احباب شامل ہوئے۔ساڑھے نو بجے رات آپ کا تابوت بہشتی مقبرہ ربوہ کے احاطہ خاص میں سپردخاک کیا گیا۔قبر تیار ہونے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لمبی اجتماعی دعا کروائی لے تعزیتی قرار داد لجنہ اماءاللہ مرکزیہ: لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا ایک غیر معمولی اجلاس ۱۴ ر ستمبر بروز سوموار صبح آٹھ بجے دفتر لجنہ اماءاللہ ربوہ میں منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل قرار داد پاس کی گئی:۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی مبرات حضرت سیدہ ام داؤ درضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات پر اپنے انتہائی رنج اور غم کا اظہار کرتی ہیں۔سیدہ ام داؤ د بلجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی نائب صدر تھیں اور لجنہ اماءاللہ کی روح المصلح ۱۳۱۰ ستمبر ۱۹۵۳ء ومصباح اکتوبر۱۹۵۳ء صفحه۲