تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 341
341 ور افسوس تو یہ ہے کہ جو پڑھا تھا وہ بھی ضائع کر دیا۔نہ دینی نہ دنیوی کوئی فائدہ اٹھایا۔خدا نے خدمت دین کی توفیق دی تھی۔اپنی بدقسمتی سے یونہی وقت ضائع کر دیا اور یہ بھی نفس کا دھوکا ہے۔اگر اب بھی صحت کا خیال رکھوں تو کچھ نہ کچھ کیا بلکہ بہت کچھ کرسکتی ہوں۔آئندہ کے لئے میری اولا دکو نصیحت ہے کہ نہ تو صحت کو ضائع کریں اور نہ وقت کو ضائع کریں۔اگر صحت ہوگی تو خدمت دین بھی کر سکیں گے ورنہ سر پر ہاتھ رکھ کر پچھتائیں گے مجھ سے عبرت حاصل کریں۔میرا ارادہ اور میری نیت تو یہ ہے کہ میری اولاد کا ہر لمحہ اور ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کے لئے وقف ہو اور میں نے اپنی طرف سے کر دیا۔اب انجام تک پہنچانا ان کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا فرمائے۔آپ کے حسن انتظام کا مظاہرہ ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر ہوتا تھا۔۱۹۲۲ء سے آپ نے جلسہ سالانہ کے شعبہ مہمان نوازی کا کام سنبھالا اور ۱۹۵۲ء تک بغیر ناغہ کے یہ شعبہ آپ کے پاس رہا۔کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آپ بیمار پڑیں اور بظاہر کام کے قابل نہ رہیں۔لیکن آپ نے بستر پر لیٹے لیٹے کارکنات کو ہدایات دے کر ان سے کام کروایا۔جب تک ایک ایک مہمان کی ہر ضرورت نہ پوری ہو جاتی آپ گھر تشریف نہ لے جاتیں۔پھر صبح نماز سے بھی قبیل کام کیلئے موجود ہوا کرتیں۔۱۹۵۲ء کے آخر میں آپ بیمار ہوئیں اور جلسہ سالانہ کے دنوں میں بیماری شدت اختیار کر چکی تھی۔ان سے کام کے سلسلہ میں استفسار کیا گیا تو آپ نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے میری جان بھی حاضر ہے لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ اپنی اس بیماری میں میں مہمانوں کی کوئی خدمت سرانجام دے سکوں گی۔جلسہ سالانہ کے انتظامات کے علاوہ کئی ہنگامی موقعوں پر آپ نے اہم خدمات سرانجام دیں۔مثلاً الیکشنوں کے موقع پر۔۱۹۴۸ء میں فرقان فورس کے مجاہدین کی خدمات کے سلسلہ میں وغیرہ۔حضرت میر محمد الحق صاحب مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر اور دارالشیوخ کے نگران اعلیٰ تھے۔الصلح کراچی سے اکتو برس 12 سم مع الصلح کراچی ار تیر ۱۹۵۳ پستی ۳ ۷۷ اکتوبر ۱۹۵۳، ص۴ سل صفحه