تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 316
316 مورخه ۲ رمئی ۱۹۵۲ء کو دفتر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ میں ایک خاص تعزیتی جلسہ منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی:۔در مجلس عاملہ کا یہ غیر معمولی اجلاس احمدی قوم کی مشفق و مہربان ماں کی اندوہناک وفات پر گہرے رنج و تأسف کا اظہار کرتا ہے۔یقیناً حضرت اماں جان کی وفات ہمارے لئے بہت بڑا صدمہ ہے۔آپ کا وجود جماعت کے لئے خدائی برکات کے نزول کا بہت بڑا ذریعہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض و برکات کو سب سے بڑا قریبی مشاہدہ کرنے کا عینی شاہد۔افسوس آج ہم ان تمام برکات سے محروم ہیں نہ صرف یہ بلکہ حضرت اماں جان بیوگان کے لئے ملجاو ماوی، بیتامی کیلئے محبت بھری گود اور مساکین کے لئے حاجت روا تھیں۔اب یہ تمام لوگ آپ کی وفات پر حسرت و یاس کا مجسمہ بنے ہوئے ہیں۔ہمیں یہ دیکھ کر بہت رنج اور قلق ہوتا ہے کہ حضرت اماں جان کو اپنی آرام گاہ اپنے پیارے سرتاج کے قرب میں میسر نہیں آسکی۔اے خدا! اس مقدس وجود کی شربت پر جو تیرے نشانات میں سے ایک بہت بڑا نشان تھا اور جس کی تیرے پیارے رسول محمد مصطفی ﷺ نے سینکڑوں سال قبل پیشگوئی فرمائی تھی اور جس کے لئے يتزوج ويولد له کی پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ہزاروں ہزار رحمتیں نازل فرما اور اسے جنت الفردوس کے اعلیٰ مقامات میں جگہ عطا فرما اور آپ کی اولاد کو ہر قسم کی دینی و دنیوی نعماء سے متمتع فرما۔آمین اللهم آمین لے لجنہ اماءاللہ ربوہ کا تعزیتی جلسہ:۔۸ مئی ۱۹۵۲ء کو لجنہ اماءاللہ ربوہ کا تعزیتی جلسہ نصرت گرلز ہائی سکول میں منعقد ہوا۔سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اُم المومنین کے اخلاق فاضلہ پر روشنی ڈالی۔پھر محترمہ استانی میمونہ صوفیه صاحبه محترمه حمیده صابره صاحبہ اور محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ نے حضرت اماں جان کے اعلیٰ اخلاق وسیرت کے متعلق تقاریر کیں۔متعد نظمیں بھی پڑھی گئیں۔دعا کے ساتھ یہ جلسہ برخاست ہوا ہے ایرجسٹر کا رروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ الفضل ۱۴مئی ۱۹۵۲ء ص ۲