تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 314
314 آپ نے حضرت ام المومنین کے متعلق لکھا:- ا۔بہت صدقہ خیرات کرنے والی۔۲۔ہر چندہ میں شریک ہونے والی۔۳۔اول وقت اور پوری توجہ اور انہماک سے پنجوقتہ نماز ادا کرنے والی۔۴۔صحت اور قوت کے زمانہ میں تہجد کا التزام رکھتی تھیں۔۵۔خدا کے خوف سے معمور ۶۔صفائی پسند ے۔شاعر با مذاق ۸ مخصوص زنانہ جہالت کی باتوں سے ۹۔گھر کی عمدہ منتظم سے دور ۱۰۔اولاد پر از حد سقیق ۱۱۔خاوند کی فرمانبردار ۱۲۔کینہ نہ رکھنے والی ۱۳۔عورتوں کا مشہور وصف ان کی تر یا ہٹ ہے مگر میں نے حضرت ممدوحہ کو اس عیب سے ہمیشہ پاک اور بری دیکھا۔حضرت ام المومنین کا سانحہ رحلت:۔سیدہ النساء حضرت ام المومنین ۲۰ / اپریل ۱۹۵۲ء کو (اتوار اور سوموار کی درمیانی شب) ساڑھے گیارہ بجے دارالہجرت ربوہ میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما کر خالق حقیقی سے جاملیں۔نا للہ وانا الیہ راجعون۔اگلے روز یعنی ۱/۲۲ پریل بروز منگل صبح آٹھ بجکر ۲۲ منٹ پر کم و بیش چھ سات ہزار مومنین نے جو ملک کے طول و عرض سے آئے تھے اشک بار آنکھوں ،مخزون قلوب اور انتہائی رقت اور سوز و گداز سے معمور دعاؤں کے درمیان ان کے جسد اطہر کو مقبرہ بہشتی ربوہ میں امانتاً سپردخاک سیرت حضرت ام المومنین جلد نمبر ۲ ص ۳۸