تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 313 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 313

313 آپ کی روحانی صفائی کا بین ثبوت ہے کہ جس امر کا انکشاف اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرماتا ہے اسی کا انعکاس آپ کے قلب مطہر پر بھی ڈالا جاتا ہے۔حضرت ام المومنین کی زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ کا دوسرا عظیم الشان انعام آپ پر حضرت مصلح موعودؓ کے وجود کے ذریعہ سے ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ نے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر یہ اعلان فرمایا کہ میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی تھی تو حضرت اُم المومنین نے اظہار تشکر کرتے ہوئے ساری جماعت کو مندرجہ ذیل نصیحت فرمائی:۔میں اپنے خدا کا کس طرح شکر یہ ادا کروں کہ اس نے مجھ ناچیز کو اپنے پاک و بزرگ مسیح کی زوجیت کے لئے چنا اور میرے سر کو اپنے انتہائی انعام کے تاج سے مزین فرمایا اور پھر میں اپنے خدا کا کس طرح شکر یہ ادا کروں کہ اس نے میرے بیٹے محمود کو مصلح موعود کے مقام پر فائز کر کے میری عمر کے آخری حصہ میں مجھے ایک دوسرا تاج عطا کیا۔پس مجھے میرے اوپر کی طرف سے بھی تاج ملا اور میرے نیچے کی طرف سے بھی اور یہ میرے خدا کا سراسر فضل واحسان ہے جس میں میری کسی خواہش اور کسی عمل اور کسی استحقاق کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں اور یہ دوتاج صرف میرا ہی حصہ نہیں ہیں۔بلکہ میری پیاری جماعت بھی ان میں میرے ساتھ برابر کی حصہ دار ہے مگر خدا کا ہر خاص انعام اپنے ساتھ خاص ذمہ داریوں کو بھی لاتا ہے اور میری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اور جماعت کو بھی ان اہم ذمہ داریوں کے پورا کرنے کی توفیق دے جو اس کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہیں۔اے ہمارے خدا تو ایسا ہی کر۔آمین۔والسلام ام محمود ! حضرت اُم المومنین کی سیرت پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور آنے والے مورخ اس عظیم اور مقدس خاتون کی سیرت و سوانح پر لکھنا بہت بڑی سعادت تصور کریں گے لیکن حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے جو حضرت ام المومنین کے برادر اصغر تھے چند فقرات میں جو آپ کی سیرت بیان فرمائی ہے وہ حقیقہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور ہر احمدی خاتون کیلئے مشہ سیرت ام المومنین مؤلفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ص ۴۴۰۴۳ رساله فرقان ( قادیان) ۵/اپریل ۱۹۴۴ء