تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 312
312 خلافت کا احترام :۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑا درجہ عطا کیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے اسی طرح ان کا احترام اور اطاعت کی جو کرنے کا حق تھا۔ایک مرتبہ حضرت ام المومنین نے حضرت خلیفہ اول کو کہلا بھیجا کہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی کام کروں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول نے ایک طالب علم کی پھٹی پرانی رضائی مرمت کے لئے بھجوا دی۔حضرت ام المومنین نے بشاشت قلب سے اس رضائی کی مرمت اپنے ہاتھ سے کی اور اسے درست کر کے واپس بھجوا دیا۔مرمت شدہ رضائی طالب علم کو واپس دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ حضرت ام المومنین فرماتی ہیں کہ رضائی میں چلیٹ بہت تھیں اپنے کپڑوں کوصاف رکھا کرو۔حضرت اُم المومنین نے اس گندی رضائی کی مرمت صرف اور صرف رضائے الہی کی خاطر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے جانشین کے حکم کی تعمیل میں کی۔یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں مقام خلافت کی کتنی عظمت تھی۔حضرت سیدہ ام المومنین کی امتیازی شان حضرت اُم المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑا انعام جو عطا ہوا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجیت میں آنا تھا۔اس کا اظہار خود آپ کی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں کیا۔چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی بہت ہی قدر فرماتے تھے اور متعددمرتبہ اس کا ذکر فرمایا کہ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ جب رڈیا یا وحی کے ذریعہ کسی امر کا مجھ پر انکشاف ہوا تو بسا اوقات ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ہمارے گھر والوں کو بھی اس امر کے متعلق کوئی خواب یار و یا دکھایا جاتا ہے یہ امر