تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 311 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 311

311 وو ” میری آنکھ نے پھر ایک حیرت افزاء چیز دیکھی جو کانوں کی ذریعہ پیش ہوئی تھی حضرت ام المومنين (متعنا الله بطول حیا تھا) بہ نفس نفیس لنگر خانہ میں تشریف لے جاتی ہیں اور وہاں کے انتظامات کو دیکھتی ہیں اور اپنی تسلی کرتی ہیں۔پھر اپنے ذاتی اخراجات سے ایک پلاؤ کی دیگ مہمان خواتین کے لئے تیار کراتی ہیں۔سوال پلاؤ کی ایک دیگ کا نہیں بلکہ اکرام ضیف کے اس وصف کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجیت کے ساتھ آپ کو ملا۔مہمانوں کی خاطر تواضع کے متعلق حضرت اُم المومنین کی سیرت کا باب بہت وسیع اور اس کی شاندار مثالیں بے شمار ہیں اس عمر میں اور اس کثرت و ہجوم میں آپ کی توجہ ایک خاص سبق دیتی ہے۔پھر یہی نہیں آپ سٹیشن پر تشریف لے جاتی ہیں اور اپنی موٹر کو اس وقت مہمان عورتوں کو شہر سے جانے کے لئے پیش کر دیتی ہیں اور خود سٹیشن پر کھڑی رہتی ہیں۔“ لے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ کی روایات جس طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی کے اکثر حالات آنے والے لوگوں تک اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ پہنچے۔آپ نے آنحضرت ﷺ کی روز مرہ زندگی ، آپ کے اخلاق فاضلہ ، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے ، چلنے پھرنے ، عبادات ، گھریلو زندگی غرض ہر قسم کے واقعہ کی چھوٹی سی چھوٹی تفصیل کو بھی بیان فرمایا ہے اسی طرح حضرت اُم المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ نے سینکڑوں واقعات بیان فرمائے اور ان روایات کی بناء پر آنے والے لوگوں نے سیرت احمد علیہ السلام اور تاریخ احمدیت کو مرتب کیا۔یہ پہلا ایک بہت بڑا احسان ہے جو جماعت احمدیہ پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا۔بیوی مرد کی سب سے بڑی راز دار ہوتی ہے۔جس طرح اس کی گہری نظر اپنے خاوند کے افعال پر پڑتی ہے کسی اور کی نہیں پڑ سکتی۔حضرت ام المومنین کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر کامل ایمان تھا اتناز بر دست ایمان کہ آپ نے اپنے پر سوکن آنا پسند کر لیا لیکن یہ گوارا نہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کی نکلی ہوئی بات پوری نہ ہو۔آپ کی بیان کردہ روایات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں بیان فرمائی ہیں۔الحکم ۱۴ جنوری ۱۹۳۴ء ص ۱۲