تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 305 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 305

305 مختلف جگہیں پیش ہوتی رہیں۔حضرت مولانا حکیم الامت خلیفتہ المسیح الاول نے اپنا مکان پیش کیا تھا کہ اس میں بنایا جاوے لیکن حضرت کی خواہش تھی کہ مسجد میں بنایا جاوے۔مگر مسجد کا احاطہ اس وقت بہت ہی چھوٹا تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کے مزار کے بالکل قریب اس احاطہ کی دیوار تھی۔باقی حصہ اگر چہ مسجد ہی کا تھا مگر غیر آباد پڑے رہنے کے باعث وہ عام لوگوں کی گزرگاہ بناہوا تھا۔جب حضرت نے ارادہ فرمایا تو اس حصہ کو مسجد میں شامل کرنے کا ارادہ فرمایا۔بعض ہندؤوں نے جو ہمیشہ سے مخالفت کے عادی تے مخالفت کی لیکن تائید الہی نے انہیں بخل اور شرمندہ کیا۔وہ زمین مسجد کے ساتھ ملحق ہوگئی اور حضرت نے فرمایا کہ وہاں منارۃ اسیح تعمیر ہو۔اسکے بعد اعلان کیا گیا۔احباب نے اس میں حصہ لیا اور حضرت نے ایک سو خلص دوستوں کے گروہ کو خاص گروہ کے نام سے ممتاز کر کے اعلان کیا کہ وہ ایک ایک سور و پیہ دے دیں۔یہ باتیں اپنے اپنے مقام پر سیرت میں آئیں گی یہاں صرف ایک واقعہ کی تشریح کے لئے اس قدر میں نے لکھا ہے۔حضرت ام المومنین علیہ السلام نے ایک ہزار چندہ اس غرض کے لئے لکھوایا اور اپنے مکان کی فروخت سے اسے پورا کرنے کا عزم فرمایا۔یہ واقعہ سلسلہ عالیہ کی مستورات کے لئے خدمت دین کے لئے ایک اُسوہ حسنہ ہے اور نیز یہ ثبوت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا۔آپ کی ہر ایک تحریک اور کاموں کو حضرت اُم المومنین کس طرح پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتیں اور اس کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں فرماتی ہیں۔ان واقعات اور حالات کے متعلق حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ۲۰ جون ۱۹۰۰ء کو حضرت میر حامد شاہ صاحب کو ایک خط میں جو اطلاع دیتے ہیں وہ ذیل میں درج ہے۔یہ مختصر سا نوٹ کلید ہو گی ان واقعات کو جاننے کیلئے جو اس میں آئیں گے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا خط حضرت میر حامد شاہ صاحب کے نام منارہ کے لئے زمین بفضل خدا ان کو مل گئی۔حضرت اقدس کی توجہ از بس اس طرف مبذول ہے۔قوم کی طرف سے چندہ آ رہا ہے مگر از بس قلیل ہے۔حضرت نے کل ایک تجویز کی کہ ایک سو آدمی جماعت میں سے ایسے منتخب کئے جاویں کہ ان کے نام حکماً اشتہار دیا جاوے کہ سوسور و پیدا ارسال کریں خواہ عورتوں کا زیور بیچ کر۔در حقیقت یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور ایسی دینی