تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 306 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 306

306 ضرورتوں میں قوم کا روپیہ کام نہ آئے تو پھر کب؟ بیوی صاحبہ نے ایک ہزار روپیہ چندہ منارہ میں لکھایا۔دہلی میں ان کا ایک مکان ہے اس کی فروخت کا حکم دیا ہے وہ اس چندہ میں دیا جائے گا۔ایک اور واقعہ آپ کی سلسلہ کے لئے محبت اور قربانی پر روشنی ڈالتا ہے کہ سلسلہ کے اخراجات کی خاطر آپ کو اپنے مال کی پرواہ نہ تھی نہ زیورات کی جو فطرتا ہر عورت کو عزیز ہوتے ہیں۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہ رہا ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضور علیہ السلام اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سالن نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ ( یعنی حضرت اُم المومنین سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچایا۔“ الفضل کے اجراء کے لئے آپ کی قربانی:۔الفضل کا اجراء ۱۹۱۳ء میں نہایت نا مساعد حالات میں ہوا تھا اس کے لئے آپ نے جو قربانی پیش کی وہ حضرت فضل عمر خلیفہ اسیح الثانی کے الفاظ میں پڑھئے:۔دوسری تحریک اللہ تعالیٰ نے حضرت ام المومنین کے دل میں پیدا کی اور آپ نے اپنی ایک زمین جو قریباً ایک ہزار روپیہ میں بکی الفضل کے لئے دے دی۔مائیں دنیا میں خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں مگر ہماری والدہ کی ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ کہ احسان صرف ان کے حصہ میں آیا ہے اور احسان مندی صرف ہمارے حصہ میں آئی ہے۔دوسری ماؤں کے بچے بڑے ہو کر ان کی خدمت کرتے ہیں مگر ہمیں یا تو اس کی توفیق ہی نہیں ملی کہ ان کی خدمت کر سکیں یا شکر گزار دل ہی نہیں ملے جوان کا شکریہ ادا کرسکیں۔بہر حال جو کچھ بھی ہو اب تک احسان کرنا انہیں کے حصے میں ہے اور حسرت وندامت ہمارے حصے میں۔وہ اب بھی ہمارے لئے تکلیف اٹھاتی ہیں اور ہم اب بھی کئی طرح ان پر بار ہیں۔دنیا میں لوگ یا مال سے اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں یا پھر جسم سے خدمت کرتے ہیں۔کم سے کم میرے پاس دونوں نہیں۔مال نہیں کہ خدمت کرسکوں یا شاید احساس نہیں کہ بچی قربانی ل الحکم ۲۱ مارچ ۱۹۳۴ء ص ۲۱۰ اصحاب احمد جلد ۴ ص ۱۰۸