تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 302 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 302

302 شریف کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں سے آپ نے حضرت ام المومنین کی خدمت میں بطور مشورہ ایک خط لکھا۔حضرت ام المومنین نے اس خط کا جو جواب دیا وہ سنہری الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہے اور احمد بیت ، اسلام اور سلسلہ کی خاطر اپنی اولاد کو قربان کر دینے کے لئے آپ کے دل میں جو جذبات تھے ان پر گہری روشنی ڈالتا ہے۔آپ نے تحریر فرمایا :۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ خط تمہارا پہنچا۔سب حال معلوم ہوا۔مولوی صاحب ( مراد حضرت خلیفہ اوّل) کا مشورہ ہے کہ پہلے حج کو چلے جاؤ۔اور میرا جواب یہ ہے کہ میں تو دین کی خدمت کے واسطے تم کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دے چکی ہوں اب میرا کوئی دعوی نہیں۔وہ جو کسی دینی خدمت کو نہیں گئے بلکہ سیر کو گئے ان کو خطرہ تھا اور تم کو کوئی خطرہ نہیں۔خدا وند کریم اپنے خدمت گاروں کی آپ حفاظت کرے گا۔میں نے خدا کے سپرد کر دیا تم کو خدا کے سپرد کر دیا خدا کے سپر د کر دیا اور سب یہاں خیریت ہے۔والد محمود احمد آپ کی جماعت سے محبت اور شفقت:۔۴ اکتوبر ۱۹۱۲ ءا حضرت ام المومنین کو جماعت سے جو محبت اور شفقت تھی اس کے واقعات تو اتنے زیادہ ہیں کہ اس مختصر سے نوٹ میں ان کا ذکر کیا ہی نہیں جاسکتا۔جماعت کے مرد، عورتوں اور بچوں پر آپ نے ان گنت احسانات کئے۔کئی غریبوں کی مستقل طور پر امداد کی کئی شادیاں کیں، غریبوں کے لئے اپنے ہاتھ سے کپڑے سیئے، رضائیاں سی کر تقسیم کیں، کئی یتیم بچوں کی پرورش کی ،شادیاں کیں، ان کو گھر بنوا کر دیئے ، اپنے ہاتھ سے ان کی خدمت کی۔ہر ایک کی بات کو توجہ سے سننا، ان کے درد کے مداوی کرنا ، ان سے ہمدردی غم خواری اور دعائیں کرنا آپ کا خاص شعار تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب آپ کی سیرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کسی عورت کے متعلق یہ منتیں کہ وہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب وامیر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق تسلی له الفضل ۲۰ / نومبر ۱۹۱۷ ص۱۰ و تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۴۲